Fast Fiction

نظام میرے بغیر چلا ہی نہیں #2

گیٹ نمبر تین پر سفید ہائی ایس کی بریک چیخی، پیچھے منی ٹرک نے ہارن پر ہاتھ جما دیا، اور فرحان نے ڈسپیچ ڈیسک سے سر اٹھائے بغیر چیخ کر کہا، “پہلے کورنگی والا نکالو، پھر نارتھ بائی پاس!” صائمہ نے لائن کے کنارے سے فوراً کہا، “نہیں، کورنگی والا فریزڈ لوڈ ہے، اس کا ڈاک ابھی بند ہے۔ پہلے نارتھ بائی پاس نکالو، ورنہ دونوں اٹک جائیں گے۔” فرحان نے اس کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی۔ اس نے کنٹرول مارکر اپنی مٹھی میں دبایا، روٹ شیٹ الٹی، اور ایسے ہاتھ ہلایا جیسے مکھی اڑا رہا ہو۔ نتیجہ اگلے ہی لمحے سامنے تھا: دو گاڑیاں ایک ہی لین میں منہ گھسا کر رک گئیں، لوڈر پیچھے پھنس گئے، اور گیٹ کے پاس کھڑے ڈرائیور نے کھردری آواز میں گالی دبا کر کہا، “بھائی، یہاں سے کچھ نکلنا بھی ہے یا بس نام کی ڈیوٹی ہے؟”

صائمہ کے کندھوں میں بارہ گھنٹے کی شفٹ کی اکڑن جمی ہوئی تھی۔ اس کے گلے میں لٹکا پرانا شناختی کارڈ پسینے سے بھیگ کر مڑ چکا تھا، اور ڈیسک کے نیچے رکھا اس کا ٹھنڈا ہو چکا کھانے کا ڈبہ بند ہی پڑا تھا۔ پھر بھی وہ وہی تھی جسے پچھلے دو سال سے رات کی اس باری کے پیچیدہ موڑ یاد تھے: کس فیکٹری کا ڈاک کس وقت کھلتا ہے، کس ڈرائیور کی عادت ہے بیچ لین گاڑی ترچھی چھوڑ دینے کی، کس مال میں دس منٹ کی دیر پینلٹی بن جاتی ہے۔ مگر آج کرسی پر فرحان بیٹھا تھا، صرف اس لیے کہ شفقت صاحب کی بہن کے سسرال کی طرف سے اس کی سفارش آئی تھی، اور دفتر میں دو دن سے یہی گھوم رہا تھا کہ “لڑکی نے کیا ہی کرنا ہے، اوپر بیٹھنے کے لیے آدمی چاہیے۔”

“صائمہ، تم وہاں کھڑی کھڑی تبصرہ نہ کرو،” فرحان نے بالآخر نگاہ اٹھا کر کہا، “پیچھے والی ٹیم سنبھالو۔ اسپِل اوور تمہارا کام ہے۔ ڈیسک میں جو ہوگا، میں دیکھ لوں گا۔” “ڈیسک میں جو ہو رہا ہے، وہی تو سب کے گلے پڑ رہا ہے۔” “بات کم۔” اس نے اسٹیشن کی چابیوں کا چھلا اپنی انگلی پر گھمایا، جیسے وہ بھی کسی عہدے کا حصہ ہوں، پھر ندیم کو آواز دی، “سب میرے ذریعے آئیں گے۔ کوئی روٹ شیٹ اس کے پاس نہیں جائے گی۔” ندیم نے ایک لمحہ صائمہ کی طرف دیکھا، پھر نظریں ہٹا لیں۔ مجمع ہمیشہ اسی طرف جھکتا ہے جہاں کرسی رکھی ہو۔

صائمہ پیچھے ہٹی، مگر خاموشی ماننا کچھ اور ہوتا ہے، ہٹ جانا کچھ اور۔ وہ سیدھی اوورفلو لین کی طرف گئی جہاں تین ڈرائیور رسیدیں لہرا رہے تھے۔ اس نے ایک نظر میں ترتیب بدلی، “تم ریورس لے کر سائیڈ مارکنگ کے اندر کھڑے ہو، تم والا لوڈ شیڈ کے ساتھ لگاؤ، اور تم اپنی مہر ابھی مت لگوانا، پہلے فون کرو کہ ڈاک کھلا بھی ہے یا نہیں۔” ڈرائیور اس کی بات مان گئے۔ پہلا چھوٹا سا جھول وہیں آیا: فرحان کے حکم کے باوجود وہ اسی کی طرف جواب لینے لگے۔ ڈیسک اس کے پاس نہیں تھا، مگر لین کی سانس ایک پل کو اسی کے کہنے سے سیدھی ہوئی۔

فرحان نے یہ دیکھا اور فوراً چبھتا ہوا وار کیا۔ “حد میں رہو، صائمہ۔ تمہیں معلوم ہے نا، باہر تمہارا رشتہ چل رہا ہے۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو یا نہ ہو، یہاں نام خراب ہوا تو بعد میں یہی روئیں گے کہ لڑکی نے کام کی جگہ پر زبان چلائی تھی۔” اس نے اتنا اونچا کہا کہ گیٹ کے پاس کھڑے دو ہیلپر بھی سن لیں۔ یہ کام کے بیچ ذاتی حد کو بازار میں ٹانگ دینے جیسا تھا۔ صائمہ نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ بس اتنا کہا، “میرا نام تمہارے منہ سے کم خراب ہوتا ہے، لین تمہارے حکم سے زیادہ۔”

اس جملے کے فوراً بعد ریڈیو چرچراہا۔ بندرگاہ کی طرف سے ایک ساتھ چار گاڑیوں کا کلسٹر اندر مڑ رہا تھا: دو ریفر، ایک ادویات والا وین، ایک ہائی روف۔ ان میں سے ایک کی مہر ایک گھنٹے پہلے لگنی تھی۔ گیٹ پر رکنے کی جگہ نہیں بچی تھی۔ اندر والی لین پہلے ہی فرحان کی غلط ترتیب سے چوک ہو چکی تھی۔ رابعہ، جو انٹری رجسٹر پر تھی، اپنی کرسی سے آدھی اٹھ کر بولی، “اگر یہ چاروں ایک ساتھ گھسیں تو باہر سڑک تک قطار چلی جائے گی۔” فرحان نے روٹ شیٹ پلٹی، پھر دوسری، پھر ریڈیو اٹھایا، مگر اس کے ہاتھ کی جلدی میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ “ریفر دونوں کو ڈاک دو پر—” “ڈاک دو بند ہے!” صائمہ کی آواز اس بار سیدھی ڈیسک پر گری۔ “میں کہہ رہا ہوں—” “اور ادویات والے کو شیڈ میں نہیں رکھ سکتے، اس کی سیل چیک ہوگی۔”

دو سیکنڈ۔ بس اتنے میں اگلی گاڑی کا ناکہ اندر آ گیا۔ ڈرائیور چیخے، ہیلپر پیچھے ہٹے، اور ندیم نے ڈسپیچ ڈیسک کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، “بھائی، اب بتاؤ کس کو کہاں لگانا ہے؟” فرحان کے منہ سے کوئی صاف حکم نہ نکلا۔ اس کے انگوٹھے میں پھنسا کنٹرول مارکر پھسل کر ٹیبل پر ٹک ٹک کرنے لگا۔ صائمہ نے انتظار نہیں کیا۔ وہ سیدھی آگے بڑھی، اس کے ہاتھ سے روٹ بورڈ کھینچا، ریڈیو اٹھایا، اور ڈیسک کے برابر کھڑی ہو کر چیخی، “ندیم، ریفر ایک کو پچھلی کولڈ بے میں گھما! دوسرا روکو، صرف دو منٹ۔ رابعہ، ادویات والے کی انٹری پہلے کھولو۔ ہائی روف کو سائیڈ یارڈ میں چھڑوا دو، اس کا ڈاک میں خود دوں گی۔ گیٹ تین بند نہیں ہونا چاہیے، سمجھ آئے؟”

پورا منظر ایک لمحے کو رکنے کے بجائے الٹا تیز ہو گیا۔ یہی وہ فرق تھا۔ رابعہ نے فوراً رجسٹر اپنی طرف موڑا، “ادویات پہلے!” ندیم دوڑ کر ہیلپرز پر برس پڑا، “سنائی نہیں دیا؟ پچھلی کولڈ بے!” گیٹ پر کھڑا سیکیورٹی گارڈ، جو ابھی تک فرحان کی طرف دیکھ رہا تھا، اب صائمہ کی آواز پر بیریئر کا زاویہ بدل رہا تھا۔ فرحان نے کہا، “یہ میرا اسٹیشن ہے، چیزیں واپس رکھو۔” صائمہ نے ریڈیو کان سے لگائے لگائے اس کی طرف بغیر مڑے کہا، “تو پھر چلا لو۔ ابھی۔ ایک غلط جگہ اور گاڑیاں سڑک پر کھڑی ہوں گی۔” وہ جواب نہ دے سکا۔

پہلا ریفر پیچھے کی تنگ کولڈ بے میں اس زاویے سے لگا جس کا حساب صرف وہی رکھتی تھی؛ دوسری گاڑی کو دو منٹ روکنے سے ادویات والی وین سیدھی انسپکشن شیڈ تک نکل گئی۔ ہائی روف کو سائیڈ یارڈ میں موڑتے ہی اندر کی لین سانس لینے لگی۔ مگر صائمہ وہیں نہیں رکی۔ اس نے فرحان کی پچھلی غلطیاں ایک ایک کر کے اسی وقت کھولنا شروع کیں۔ “یہ کورنگی والا کس نے یہاں مروا دیا؟ اسے فجر سے پہلے نہیں لگنا تھا۔ اسے ہٹاؤ۔ اور یہ جو خالی پیلیٹیں لین کے بیچ پڑی ہیں، ابھی صاف کرو، ابھی!” اس کی آواز میں چیخ کم، حساب زیادہ تھا؛ مگر ہر صحیح حکم فرحان کے ایک غلط حکم پر تھپڑ کی طرح بیٹھ رہا تھا۔

فرحان نے اپنا قد سیدھا کیا، شاید یہ یاد آ گیا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ “میں سپروائزر ہوں۔ شفقت صاحب نے خود بٹھایا ہے مجھے۔” “بٹھایا ہے، چلانا نہیں سکھایا۔” ندیم کے ہاتھ سے کلپ بورڈ پھسلتے پھسلتے بچا۔ گیٹ کے پاس کھڑا وہی ڈرائیور جو پہلے جھلا رہا تھا، اب رسید آگے بڑھاتے ہوئے بولا، “باجی، میری گاڑی بھی اسی حساب سے نکال دو، ورنہ پینلٹی میری جیب سے جائے گی۔” لفظ باجی معمولی تھا، مگر رخ بدل چکا تھا۔ لوگ کرسی کی طرف نہیں، ہدایت کی طرف دیکھ رہے تھے۔

تب تک شفقت صاحب خود آ گئے۔ سفید شلوار قمیص کے اوپر واسکٹ، ہاتھ میں موبائل، پیشانی پر وہی غصہ جو اپنے نقصان پر آتا ہے، انصاف پر نہیں۔ “یہاں یہ شور کیوں ہے؟” ان کے پیچھے اکاؤنٹس والا بھی تھا؛ مطلب اوپر سے فون آیا تھا۔ رابعہ نے رجسٹر بند نہیں کیا، بس اتنا کہا، “سر، چار گاڑیوں کا کلسٹر تھا۔ اگر صائمہ ابھی ہاتھ نہ ڈالتی تو گیٹ بند ہو جاتا۔” یہ جملہ تعریف نہیں تھا؛ رپورٹ تھا۔ اور رپورٹ فرحان کے حق میں نہیں جا رہی تھی۔

فرحان فوراً شفقت صاحب کے قریب ہوا، “سر، یہ حد سے باہر جا رہی ہے۔ میرے ہاتھ سے بورڈ لے لیا۔ عملہ کنفیوز ہو رہا ہے۔” صائمہ نے اسی دوران ریڈیو پر آخری ہدایت دی، “گیٹ تین کھلا رہے گا۔ ادویات والی نکلنے کے بعد ہی ریفر دو اندر لانا۔” پھر اس نے بورڈ ٹیبل پر نہیں رکھا، اپنے بازو کے نیچے دبا لیا۔ “کنفیوز عملہ نہیں، آپ کا آدمی ہے۔ اور اگلا کلسٹر پانچ منٹ پر ہے۔ اگر اسٹیشن، مارکر اور ماسٹر کیز ایک ہاتھ میں نہیں گئیں تو اس بار سیدھی سڑک بلاک ہوگی۔”

شفقت صاحب کی نظر پہلی بار ٹھہری۔ “ماسٹر کیز کہاں ہیں؟” فرحان نے فوری جواب نہیں دیا۔ چھلے کی آواز اس کی جیب میں بجی۔ “میں نے پوچھا، ماسٹر کیز کہاں ہیں؟” “میرے پاس ہیں، سر۔ لیکن—” “لیکن کیا؟” صائمہ نے بات کاٹ کر نہیں، سیدھی جگہ پر رکھی۔ “سر، پچھلی کولڈ بے، سائیڈ یارڈ لاک، اور ڈاک دو کا اووررائیڈ— تینوں اسی چھلے میں ہیں۔ اگلا کلسٹر آتے ہی ایک ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہر تالے کے لیے یہ پہلے آپ کے بھانجے کی طرف دیکھے گا، پھر شیٹ ڈھونڈے گا، پھر حکم بدلے گا، تو گیٹ باہر تک بھر جائے گا۔”

شفقت صاحب کے چہرے پر خاندانی جھجک ایک پل کو آئی، پھر حساب نے اسے دھکیل دیا۔ باہر سے مسلسل ہارن آ رہے تھے۔ اکاؤنٹس والا ان کے کان کے قریب بولا، “سر، بندرگاہ والے پھر شکایت کریں گے تو جرمانہ سیدھا لگے گا۔” یہی وہ رگ تھی جہاں رشتہ داری کمزور پڑتی ہے۔ فرحان نے ایک آخری کوشش کی۔ “میں سنبھال لوں گا، آپ مجھے ایک موقع—” اسی وقت ریڈیو پر تیز آواز آئی، “گیٹ سے بول رہا ہوں، باہر والی لائن مڑ گئی ہے، اب بتائیں کس کو روکیں؟” سوال ہوا میں نہیں تھا؛ فیصلے کی مانگ کر رہا تھا۔

شفقت صاحب نے ہاتھ بڑھایا۔ “مارکر دو۔ اور چابیاں بھی۔” فرحان جیسے سمجھا نہیں۔ “سر، سب کے سامنے؟” “ہاں، سب کے سامنے۔ کیونکہ خرابی بھی سب کے سامنے کھڑی ہے۔” ایک لمحہ ایسا آیا جب پورا یارڈ نہیں، صرف وہ چھلا اہم تھا۔ فرحان نے اسے نکالنے میں دیر کی۔ یہی دیر اس کی اصل بے بسی تھی۔ صائمہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ ڈسپیچ کرسی کے پیچھے آ کھڑی ہوئی، بورڈ بغل میں، ریڈیو ہاتھ میں۔ شفقت صاحب نے فرحان کی جیب سے نکلا ہوا ماسٹر کیز کا چھلا لیا، پھر اپنی انگلی سے کنٹرول مارکر بھی کھینچ لیا۔ انہوں نے دونوں چیزیں صائمہ کی طرف بڑھائیں۔ “اب تم چلاؤ۔ اسی وقت۔”

فرحان کا رنگ اتر گیا۔ “سر، آپ میرے ساتھ یہ—” “لین خالی کراؤ۔ بس۔” شفقت صاحب کی آواز اب اس پر نہیں، اس کے اوپر سے گزری۔ یہ عہدے کا پلٹنا تھا، بحث کا نہیں۔ صائمہ نے چابیاں لیں، مارکر انگلی میں پھنسا لیا، اور ڈسپیچ کرسی پر بیٹھنے کے بجائے آدھی کھڑی حالت میں ڈیسک سنبھال لیا تاکہ دونوں لینیں نظر آئیں۔ “ندیم، فرحان اب گیٹ کے بائیں فلش زون میں کھڑا ہو گا۔ جو میں کہوں، وہی کرائے گا۔ رابعہ، اگلے چار نمبر پڑھو۔ تیزی سے۔”

اعداد، ہارن، ریڈیو، قدموں کی چاپ— سب ایک لڑی میں بندھنے لگے۔ “ریفر دو کو ابھی باہر روکو، ڈرائیور کو چائے نہیں، انجن چلتا چاہیے۔ ادویات والی نکلے تو سائیڈ یارڈ لاک کھولو۔ ہائی روف کے لیے لوڈر تین، فوراً۔ فرحان، پیلیٹیں خود اٹھواؤ، ابھی راستہ صاف کرو۔” آخری حکم جان بوجھ کر اسی کو دیا گیا تھا۔ وہ ایک پل ساکت رہا۔ پھر جب کسی نے اس کی طرف نہیں دیکھا، وہ جھک کر پیلیٹیں ہٹوانے لگا۔ اس کی کمر کا وہ زاویہ، جو ابھی تک ڈیسک کے پیچھے اکڑا ہوا تھا، سب سے زیادہ بول رہا تھا۔

پانچ منٹ میں پہلی باہر والی قطار ٹوٹی۔ آٹھ منٹ میں گیٹ کے پاس چیختا منی ٹرک اپنی رسید پر مہر لے کر نکل گیا۔ دس منٹ میں وہی ڈرائیور، جس کی پینلٹی کا خطرہ تھا، گاڑی سیدھی نکالتے ہوئے کھڑکی سے ہاتھ نکال کر بولا، “چل پڑی نا اب!” صائمہ نے ادھر دیکھا بھی نہیں۔ اس کے سامنے اگلے نمبر کھل رہے تھے۔ ہر درست موڑ فرحان کی غلطی کو اور نمایاں کر رہا تھا، اور ہر نیا حکم پچھلا بحث ختم کر رہا تھا۔ اب اسے ثابت نہیں کرنا تھا؛ باقی سب اس کے بغیر ثابت ہو رہا تھا۔

جب آخری گاڑی اندر لگ گئی اور گیٹ تین کی ہڑبڑی سیدھی سانس میں بدلی، صائمہ نے صرف اتنا کیا کہ بورڈ ڈیسک کے بائیں خانے میں رکھا، جہاں وہ ہمیشہ رکھتی تھی، اور ریڈیو کی آواز ایک درجے کم کر دی۔ شفقت صاحب ابھی بھی پاس کھڑے تھے، مگر اس نے ان کی طرف مڑ کر کوئی شکریہ نہیں کہا۔ اس نے کہا، “ماسٹر کیز۔ مستقل طور پر میرے پاس رہیں گی جب تک رات کی باری میرے نام ہے۔ اسٹیشن کے بغیر جواب دہی نہیں لوں گی۔” شفقت صاحب نے فوراً جواب دیا، “رابعہ، رجسٹر میں نوٹ کرو۔ رات کی ڈسپیچ آپریٹر صائمہ۔ کنٹرول اسی کے پاس۔” یہ اعلان نعرہ نہیں تھا۔ بس اندراج تھا۔ مگر بعض دفعہ کاغذ پر لکھا نام ہی سب سے اونچی آواز ہوتا ہے۔

فرحان نے کچھ کہنا چاہا، پھر صرف خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ اس کے ہاتھ خالی تھے۔ نہ بورڈ، نہ مارکر، نہ چھلا۔ صائمہ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ “اگلی بار اگر میرا نام اپنے منہ سے گھسیٹا تو باہر کی لائن تم خود سنبھالو گے، اندر میں نہیں آؤں گی۔” پھر وہ مڑ گئی۔ سزا جملے میں نہیں تھی؛ حد بندی میں تھی۔

بے کے ساتھ والی دیوار میں لگی لوہے کی چھوٹی الماری کھلی۔ اندر قطار سے لٹکی چابیوں کے خانے تھے، ہر خانے پر چھوٹا سا نمبر۔ صائمہ نے ماسٹر کیز کا چھلا اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھایا، درست کنگھی میں اٹکایا، ایک پل انگلی چھوڑنے میں لگایا۔ دھات آپس میں بجی، ہلی، پھر ساکن ہو گئی۔