Fast Fiction

اسی ڈیمو نے اس کی عزت ڈبو دی

مہرین نے پروب کے سرے پر جیل لگایا، زاویہ ٹھیک کیا اور مشین کی چمکتی اسکرین پر گین نیچے کھینچا ہی تھا کہ ڈاکٹر فراز نے اس کے ہاتھ سے مارکر لے کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اعلان کیا، “بنیادی تیاری ہو گئی ہے، اب اصل ڈیمونسٹریشن میں میں بتاؤں گا کہ جدید تشخیصی مطالعہ کیسے پڑھتے ہیں۔”

وہ جملہ اتنا اونچا بولا گیا تھا کہ تشخیصی بے کے پردے کے پاس کھڑی خالہ نسرین، دو عطیہ دہندگان، اور مہرین کی اپنی امی تک سن لیں۔ مہرین نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف کنسول کے نیچے اٹکی تار سیدھی کی، مریض کے بستر کا پہیہ لاک کیا، اور رجسٹریشن کاؤنٹر کی بھری ہوئی کنارے پر پڑی پلاسٹک کی ٹرے سے مریض کا فارم اٹھا کر مشین کے پاس رکھا۔ اس کے ٹھنڈے ہو چکے دوپہر کے کھانے کا چھوٹا ڈبہ اب بھی سائیڈ شیلف پر بند پڑا تھا۔ صبح سے اسے کھولنے کی مہلت نہیں ملی تھی۔ جیب میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ انگلی سے لگ رہا تھا، جیسے یاد دلا رہا ہو کہ وہ یہاں شہر کی کسی معزز مہمان نہیں، سروس سیکٹر کی وہ ملازم ہے جو وقت پر پہنچنے کے لیے دو بسیں بدلتی ہے۔

خالہ نسرین نے امی کے کان کے قریب جھک کر اتنا اونچا کہا کہ آدھی بات سب کو سنائی دے، “لڑکی اچھی ہے، محنتی ہے، مگر ایسے دنوں میں نام تو ڈاکٹر کا ہی چلتا ہے۔ ہاتھ بٹانا الگ بات ہے، منصب الگ۔” پھر وہی خالہ، جنہیں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی بات کے بعد سے مہرین اور ان کے بھانجے حمزہ کا معاملہ خاص دلچسپی سے دیکھنا تھا، ڈاکٹر فراز کی طرف دیکھ کر بولیں، “آج بڑے لوگ آئے ہیں، اچھا تاثر پڑنا چاہیے۔”

مہرین نے مریض کے بازو کے نیچے تولیہ ٹھیک کیا۔ ڈاکٹر فراز نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “آپ بس پروب پکڑا دیا کریں اگر میں مانگوں۔ باقی میں خود کر لوں گا۔” پھر میزبان کمیٹی کے آدمی کی طرف مڑا، “ہمارے شعبے کی جونیئر ٹیکنیکل سپورٹ کافی محنتی ہے۔” جونیئر۔ ٹیکنیکل سپورٹ۔ وہی عورت جس نے پچھلے چھے مہینے میں مشین کی خرابیوں سے لے کر مشکل ریڈنگ تک آدھے وارڈ کو سنبھالا تھا، اس کے لیے یہی لفظ بچا تھا۔

پہلا چھوٹا شگاف اسی وقت پڑا جب ڈاکٹر فراز نے اسکرین پر مریض کا نام غلط منتخب کر لیا۔ مہرین نے فوراً آگے بڑھ کر کی بورڈ کے اوپر اس کی انگلی سے پہلے صحیح فائل کھول دی۔ “یہ والا، بستر نمبر سات۔” اس نے اتنا ہی کہا۔ عطیہ دہندگان میں سے ایک بوڑھے صاحب نے بھنویں اٹھائیں۔ ڈاکٹر فراز نے ہنسی میں اڑا دیا، “چھوٹی سی رجسٹریشن غلطی تھی۔”

غلطی چھوٹی نہیں رہی۔ باہر راہداری میں مریضوں کی قطار لمبی ہو چکی تھی۔ رجسٹریشن ڈیسک سے پرچیوں کی آوازیں آ رہی تھیں، وہی بھرا ہوا کاؤنٹر، اسٹپلر، آدھی کھلی سینیٹائزر کی بوتل، بلوں کے نیچے دبی ہوئی فائلیں۔ میزبان کمیٹی والا بار بار پردہ ہٹا کر جھانک رہا تھا۔ “فراز صاحب، اگلا عطیہ دہندہ پانچ منٹ میں اندر آ رہا ہے۔ میڈیا والے بھی ادھر ہی ہیں۔ ہمیں ایک کامیاب لائیو کیس چاہیے۔”

“ہو جائے گا،” فراز نے فوراً کہا، مگر اس کی کلائی کا دباؤ غلط تھا۔ پروب اس نے بہت اوپر رکھا، زاویہ بے ربط، تصویر بار بار دانے دار ہو کر پھسل رہی تھی۔ مریض، ایک پچپن سالہ اسکول ٹیچر، پسینے میں بھیگ رہے تھے۔ ان کی بیٹی پردے کے قریب ہونٹ دبا کر کھڑی تھی۔ “ابو کو سانس زیادہ چڑھ رہی ہے,” اس نے کہا۔

مہرین نے اسکرین پر ایک تیز سی چمک دیکھی، پھر غائب ہوئی۔ اس نے فوراً پہچانا کہ پروب غلط جگہ سے گزر رہا ہے۔ “سب کاسٹل ونڈو لیجیے،” اس نے دبے مگر صاف لہجے میں کہا۔

فراز نے اسے یوں دیکھا جیسے کسی نے ملازمہ سے منبر چھیننے کی کوشش کی ہو۔ “مجھے پتا ہے۔” مگر اگلے ہی لمحے اس نے دوبارہ وہی غلط زاویہ لیا۔ تصویر بدتر ہو گئی۔ بیٹی کی آواز اونچی ہو گئی، “آپ دیکھ کیا رہے ہیں؟ ابو کا رنگ بدل رہا ہے۔”

پردے کے باہر قدم رکے۔ خالہ نسرین نے ہاتھ کے پرس کو دونوں بازوؤں میں جکڑ لیا۔ امی نے مہرین کی طرف دیکھا، وہی نظر جس میں دعا بھی تھی اور ڈر بھی؛ بیٹی اگر اب بولی تو لوگ کہیں گے حد سے بڑھی ہوئی ہے، اگر نہ بولی تو اندر کا آدمی بگڑ سکتا ہے۔

پھر وہ ایک حرکت ہوئی جس کے بعد فراز کے لیے ڈھونگ جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ مہرین نے آگے بڑھ کر پروب کے سر پر اپنی دو انگلیاں رکھیں، اس کا رخ نیچے اور بائیں کو صرف ایک سانس جتنا موڑا، اور اپنے انگوٹھے سے گہرائی کم کر دی۔ اسکرین پر ایک دم واضح چیمبر کھل گیا۔ دل کے گرد سیاہ ہلال صاف ابھرا، جیسے کسی نے دھندلے شیشے پر پانی ڈال کر اصل نقشہ نکال دیا ہو۔

“یہ افیوژن ہے،” مہرین نے مریض کی بیٹی سے نہیں، مشین سے کہا۔ “اور دباؤ بڑھ رہا ہے۔”

کمرہ جم گیا۔ فراز نے پروب واپس پکڑنے کی کوشش کی مگر اب وہ پکڑ کر بھی کیا کرتا؟ واضح تصویر سامنے تھی، اور اس کے چہرے پر وہ خالی پن پھیل گیا جو تب آتا ہے جب آدمی نام تو بڑا لے آیا ہو مگر ہاتھ فیصلہ کن لمحے میں انجان نکلیں۔ اس نے کنسول پر ایک بٹن دبایا، پھر دوسرا، پھر بولا، “میں… میں بس ایک کنفرم ویو لینا چاہ رہا تھا۔”

“لیجیے،” مہرین نے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ “لیجیے نا۔” پروب اس کے ہاتھ کی سمت بڑھا ہوا تھا مگر فراز نے پکڑا نہیں۔ اس کی کلائی ہوا میں رکی رہی۔

ڈاکٹر سمیعہ، جو اب تک دوسری بے سے دوڑتی ہوئی آ گئی تھیں، سیدھی مہرین کے پاس کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے مریض کی سانس دیکھی، اسکرین دیکھی، پھر کہا، “مہرین، آپ جاری رکھیں۔ نرس، آکسیجن بڑھاؤ۔ بیٹی صاحبہ، ادھر کھڑی رہیں مگر راستہ خالی رکھیں۔” بس اتنا۔ حکم کا رخ بدل گیا۔ نرس فراز کی طرف نہیں، مہرین کی طرف متوجہ ہوئی۔ مریض کی بیٹی پردے سے ہٹ کر مہرین کے کندھے کے پیچھے آ کھڑی ہوئی۔ عطیہ دہندہ بوڑھے صاحب ایک قدم اندر آگئے، مگر اب دیکھنے کے لیے، سنانے کے لیے نہیں۔

فراز نے آخری بار پرانی حیثیت بچانے کی کوشش کی۔ “یہ میرا ڈیمو سیشن ہے۔” آواز پہلے سے ہلکی تھی، جیسے گلے میں کچھ اٹک گیا ہو۔

ڈاکٹر سمیعہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “اب مریض کا کیس ہے۔ اور بے ان ہاتھوں کے بغیر نہیں چلے گی۔” پھر کنسول کے پاس رکھی چابیوں کا چھوٹا حلقہ، جو مشین کی الماری کا تھا اور فراز صبح سے جیب میں ڈالے پھر رہا تھا، مہرین کی طرف سرکا دیا۔ دیر سے لوٹائی گئی چابی نے دھات کی ایک مختصر آواز کی۔ جیسے دروازہ آخرکار اصل آدمی کے نام پر کھلا ہو۔

مہرین نے کوئی فتح مند انداز نہیں بنایا۔ اس نے بستر کی اونچائی ذرا نیچی کی، مریض کے کندھے کے نیچے رول رکھا، بیٹی سے کہا، “ابو کو سیدھا سانس لینے دیں، بات کم کریں۔” پھر اس نے اسکرین کے اوپر ماپنے والا خانہ کھولا، پروب کو درست جگہ جما کر دل کے گرد سیاہ حصے کی سرحد پر نشان رکھے۔ “یہاں… اور یہاں۔” اس کی آواز ہموار تھی، تیز نہیں۔ ہاتھ میں لرزش نہیں تھی۔ اس کے اردگرد لوگ تھے، خاندان والے تھے، وہ خالہ بھی تھیں جنہیں کل تک منصب اور ہاتھ بٹانے کے فرق پر بڑا یقین تھا؛ مگر مہرین اس وقت کسی کو راضی کرنے میں نہیں، تصویر کو سچ پڑھنے میں مصروف تھی۔

اسکرین پر زندہ دھڑکن کے ساتھ کالا ہلال ہر فریم میں جھلملا رہا تھا۔ مہرین نے دوبارہ سب کاسٹل ویو لیا، پھر اپیکل۔ “دائیں خانہ دب رہا ہے… یہاں دیکھیں۔” اس نے نرس کو پرنٹ نہیں نکالنے دیا؛ وقت ضائع ہوتا۔ “ریکارڈ چلتا رہے۔” وہ خود کنسول کے بٹن دباتی گئی۔ مریض کی سانس ایک لمحے کو اٹکی، بیٹی نے سسکی دبائی، مگر مہرین نے صرف اتنا کہا، “میں دیکھ رہی ہوں۔”

فراز اب پیچھے ہو چکا تھا، مگر پیچھے ہٹنے میں بھی اسے وقار نہیں ملا۔ ایک عطیہ دہندہ نے اس سے سوال کیا، “آپ نے پہلے کیوں نہیں دیکھا؟” فراز نے جواب دینا چاہا، مگر مہرین نے اسی لمحے فریز، ان فریز، پھر دوبارہ لائیو کیا اور سب کی نظر اسکرین پر کھینچ لی۔ جواب کا حق تصویر نے چھین لیا۔

وہ جھکی، پروب ذرا سا گھمایا، پھر ماپنے والے کیلپر کو سیاہ سیال کے سب سے چوڑے حصے پر ٹکایا۔ نمبر ابھرے۔ ڈاکٹر سمیعہ نے ساتھ ہی فون پر اوپر والے طریقہ کار کے کمرے کو مختصر اطلاع دے دی، مگر بے کے اندر حکم پھر بھی مہرین کے ہاتھ سے جا رہا تھا۔ “اب کنفرم ڈائنامک ویو۔” اس نے خود ہی کہا اور خود ہی لیا۔ اس بار اسکرین نے انکار نہیں کیا۔ صاف، مسلسل، بے رحم ثبوت۔

خالہ نسرین نے شاید کچھ کہنا چاہا۔ ان کے ہونٹ ہلے، آواز نہ نکلی۔ امی کے ہاتھ میں دعاؤں کی تسبیح تھی مگر دانے رک گئے تھے۔ پردے کے باہر رجسٹریشن کاؤنٹر کی ہلچل جیسے دور ہو گئی۔ یہاں صرف مشین کی مدھم گونج، آکسیجن کا بہاؤ، اور مہرین کی انگلیوں کے مختصر فیصلے رہ گئے۔

“نام لکھیں،” مہرین نے نرس سے کہا۔ “شدید پیریکارڈیئل افیوژن، ٹیمپونیڈ کی علامات کے ساتھ۔” نرس نے فوراً لکھا۔ فراز نے پہلی بار سیدھا مہرین سے کہا، “ایک منٹ، رپورٹ میرے نام سے—”

“ہٹیں۔” یہ لفظ چیخ کر نہیں کہا گیا، مگر اتنا صاف تھا کہ وہ واقعی ایک قدم ہٹ گیا۔

مہرین نے کنسول پر مریض کی فائل محفوظ کی، کلپ منتخب کیا، پھر آخری تصدیقی ان پٹ ڈالا۔ اسکرین پر جمی ہوئی تصویر میں دل کے گرد سیاہ جمع شدہ حلقہ واضح تھا، ماپ کے اعداد کنارے پر روشن، تشخیص اوپر درج۔ اس نے کرسر آخری سرحد پر لا کر تھاما، ایک بار ٹھیک جگہ رکھ کر چھوڑ دیا۔ تشخیصی بے کی اسکرین پر پڑھا جا سکنے والا ثبوت تھما رہا، اور کرسر رک گیا۔