بنچ سے سیدھا نام کے آگے
"سائرہ، آپ ادھر نہیں— بنچ پر بیٹھیں،" حنا باجی نے رجسٹریشن کھڑکی کے سامنے سے اس کا فارم کھینچ کر اپنے پرس کے نیچے دبا لیا، جیسے وہ کوئی آدمی نہیں، محض اضافی کاغذ ہو۔ پلاسٹک کی سبز بنچ پر جگہ بھی پوری نہیں تھی؛ ایک کونے میں بچے کی بوتل، دوسرے کونے میں کسی کی دوا کا لفافہ رکھا تھا۔ سائرہ نے خاموشی سے بیٹھتے ہوئے اپنی بس کارڈ کی گھسی ہوئی دھار انگوٹھے سے کھرچی۔ خشک کاغذ کی چرچراہٹ ہوئی جب اس نے نسخوں والا لفافہ اپنی گود میں سیدھا کیا۔ دونوں خاندان دیکھ رہے تھے۔ عمر کی خالہ نسرین نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کلرک سے کہا، "اصل گھر والے ہم ہیں، آپ بات ہم سے کریں۔ لڑکی کو ابھی طریقہ نہیں آتا۔"
سائرہ نے سر اٹھایا۔ "طریقہ مجھے آتا ہے۔ پچھلے تین مہینے سے اپوائنٹمنٹ میں نے لی ہیں۔" حنا باجی نے اسی دم اس کی بات کاٹ دی۔ "لے لینا اور بات ہے، ذمہ داری اور۔ شادی ابھی ہوئی نہیں، نسبت سے کوئی اندر نہیں آ جاتا۔" یہ جملہ سیدھا کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا کر پوری قطار میں پھیل گیا۔ پیچھے کھڑی ایک عورت نے اپنی باری کا ٹوکن دانتوں میں دبایا اور ادھر دیکھا۔ عمر نے جیسے کچھ کہنا چاہا، مگر حنا باجی نے اس کے ہاتھ سے فائل لے کر سینے سے لگا لی۔ پہلی دراڑ وہیں پڑی جب کلرک نے فائل لینے کو ہاتھ بڑھایا اور حنا باجی کے بجائے سائرہ کی طرف دیکھ کر پوچھا، "کارڈ کس نام سے بنا تھا؟"
حنا باجی تیزی سے بولی، "مرحوم سلیم احمد— ان کے والد کا نام، وہی لکھیں۔" "غلط،" سائرہ نے بنچ سے اٹھے بغیر کہا، "پچھلی بار فائل مریضہ کے زیرِ کفالت نام پر منتقل ہوئی تھی۔ نسرین آمنہ، بیوہ۔ اور رابطہ نمبر میرا ہے۔" کلرک کی انگلی ہوا میں رکی رہ گئی۔ اس نے رجسٹر پلٹا۔ حنا باجی کی ٹھوڑی میں جھٹکا آیا۔ قطار میں کھڑے لوگ فوراً سنجیدہ نہیں ہوئے، مگر اتنا ضرور ہوا کہ بات اب صرف حنا باجی کی نہیں رہی تھی۔
کلینک کراچی کے پرانے حصے میں تھا، تنگ سیڑھی کے بعد ایک نیم روشن ہال، جس میں ہر شخص دوسرے کے گھر کا معاملہ اپنی آنکھوں سے ناپ لیتا تھا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی نسبت پہلے ہی کافی باتیں سن چکی تھی؛ آج نسرین خالہ کے دل کی رپورٹ جمع ہونی تھی، اور ساتھ ساتھ یہی دیکھا جانا تھا کہ عمر کے لوگ سائرہ کو واقعی اپنی طرف گنتے بھی ہیں یا نہیں۔ سائرہ سروس سیکٹر کی ملازم تھی، صبح سے دفتر سے آدھی چھٹی کاٹ کر آئی تھی، اور یہ فائل، یہ رسیدیں، یہ پچھلے ٹیسٹ— سب اسی نے سنبھالے تھے۔ مگر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہونا بھی عزت کی طرح بانٹا جا رہا تھا۔
"تم بیٹھو بس،" عمر نے آہستہ کہا، آنکھیں نیچی رکھتے ہوئے۔ "کیوں بیٹھوں؟" سائرہ نے اسی آہستگی میں جواب دیا، مگر اس کی آواز کی سیدھ زیادہ سخت تھی۔ "فائل میرے ہاتھ کی بنی ہے۔" حنا باجی ہنسیں، وہ ہنسی جو دوسروں کو سنانے کے لیے ہوتی ہے۔ "بنی ہوگی۔ گھر سنبھالنا اور چیز ہے، کلینک کے دو چکر لگا لینے سے کوئی بہو نہیں بن جاتی۔" پھر انہوں نے اپنی سیٹ بھی طے کر دی؛ خالہ نسرین کو کھڑکی کے پاس کھڑا رکھا، خود رجسٹر کے سامنے، عمر کو دائیں، اور سائرہ کو بنچ پر۔ جو کھڑا تھا، وہ معتبر تھا۔ جو بیٹھا تھا، وہ انتظار تھا۔
کلرک نے فارم مانگا۔ حنا باجی نے دیا نہیں، صرف اوپر اٹھا کر رکھا۔ "پہلے بتائیں، داخلہ کس حیثیت سے ہوگا؟ اٹینڈنٹ ایک ہی جا سکتا ہے۔" یہ نیا خرچ تھا، نئی ذلت۔ خالہ نسرین نے بےچینی سے اپنی چابیوں کا چھوٹا گچھا مٹھی میں بند کیا۔ وہی گھر کی چابی جو پچھلے ہفتے سائرہ کے پاس دیر سے واپس پہنچی تھی کیونکہ اسی نے رات کو دوڑ کر دوا لائی تھی۔ اب وہ چابیاں پھر حنا باجی کے ہاتھ میں تھیں، جیسے رسائی ہمیشہ ادھار ہو۔ "اٹینڈنٹ عمر ہوگا،" حنا باجی نے فیصلہ سنایا، "اور باقی ہم۔ سائرہ باہر انتظار کرے گی۔"
سائرہ بنچ سے اٹھی۔ اس کی حرکت اتنی خاموش تھی کہ آواز صرف لفافے کے خشک موڑ کی آئی۔ وہ کھڑکی تک آئی اور اپنا شناختی کارڈ نکالا۔ "رابطہ نمبر، ادائیگی کی رسید، پچھلی فائل کی منتقلی، سب میرے نام اور میرے فون سے ہیں۔ باہر انتظار میں نہیں کروں گی۔ اگر نام کا سوال ہے تو درست نام لکھوائیے۔" حنا باجی نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ لینا چاہا۔ سائرہ نے نہیں دیا۔ یہی دوسرا جھٹکا تھا۔ بنچ پر بیٹھی عورت اب چیزیں حوالے نہیں کر رہی تھی۔
کلرک نے رجسٹر میں ایک خالی خانہ دیکھا اور بھنویں سکیڑیں۔ "مریضہ کی دواؤں سے الرجی کس دوا سے ہے؟ پچھلی بار نوٹ تھا مگر صفحہ غائب ہے۔ اگر ابھی نہ بتایا تو اندر سے فائل واپس آئے گی۔" حنا باجی نے فوراً عمر کی طرف دیکھا۔ عمر نے نسرین خالہ کی طرف۔ خالہ نسرین کی سانس اٹکی۔ سائرہ نے جواب دیا، "سیفاکلور سے۔ اور بلڈ پریشر کی رات والی گولی آدھی کر دی گئی تھی، ڈاکٹر ہمایوں نے۔ تاریخ سات جون۔" کلرک نے قلم چلایا۔ "اچھا۔ اور کھانا چھوڑنے سے چکر آتے ہیں؟" "جی، شوگر گر جاتی ہے۔ اس لیے صبح دلیہ کھلا کر لائی ہوں۔" اب سوال سیدھا سائرہ کی طرف آ رہا تھا۔ ایک وارڈ بوائے نے دروازے سے جھانک کر پوچھا، "خالہ کی وہیل چیئر کس طرف لانی ہے؟" کلرک نے حنا باجی کو نہیں دیکھا۔ "بی بی، آپ بتائیں، مریضہ کون سے پاؤں سے کمزور ہیں؟" سائرہ نے کہا، "بایاں۔ چیئر سیدھی اس طرف لاؤ، جھٹکا نہ لگے۔"
یہ پلٹاؤ اعلان کی طرح نہیں آیا؛ بس کمرہ اپنی سہولت کے مطابق جھک گیا۔ پیچھے کھڑی عورت نے اپنا سوال سائرہ سے کیا، "یہ ٹیسٹ والی پرچی بھی ساتھ جاتی ہے نا؟" پھر خود ہی چونک گئی کہ وہ کس سے پوچھ رہی ہے۔ خالہ نسرین کے کندھے پر سائرہ کا ہاتھ پڑا تو بوڑھی عورت نے وہی ہاتھ پکڑ لیا، حنا باجی کا نہیں۔ عمر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ یہ پیچھے ہٹنا چھوٹا تھا، مگر سب نے دیکھا۔
حنا باجی نے دیر سے سنبھلنے کی کوشش کی۔ "معلومات ہونا الگ بات ہے، حیثیت الگ۔ کلرک صاحب، نام عمر کا ڈالیے۔ بعد میں مسئلہ نہ ہو۔ منگیتر منگیتر ہوتی ہے، گھر کی عورت نہیں۔" کلرک نے فارغ لہجے میں کہا، "جس کے نمبر پر تصدیق جائے گی، اسی کا نام ساتھ لگے گا۔" "تو نمبر بدل دیں۔" "ابھی؟" سائرہ نے اپنا فون نکالا، اسکرین پر پیغام کھولا، اور کھڑکی کے نیچے رکھ دیا۔ "تصویری تصدیق کل رات کی ہے۔ ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے فائل اپڈیٹ کی تھی۔ دیکھ لیجیے۔ اور یہ منتقلی کی رسید۔" اس نے لفافے سے وہ باریک پرچی نکالی جو بار بار موڑنے سے سفید کناروں پر پھٹنے لگی تھی۔ "اصل تیماردار کے خانے میں میرا نام ہے۔"
حنا باجی کا ہاتھ پھر آگے بڑھا۔ "دے دو مجھے۔ گم ہو جائے گی۔" سائرہ نے پرچی اپنی ہتھیلی کے نیچے دبا لی۔ "اب نہیں۔" یہ دو لفظ نہ اونچے تھے نہ لمبے، مگر ان میں وہ جگہ بند ہو گئی جہاں سے اب تک حنا باجی ہر چیز اپنے ہاتھ میں لے لیتی تھیں۔ دروازے کے فریم میں کھڑے وارڈ بوائے نے انتظار میں چیئر روکے رکھی۔ کلرک نے رجسٹر گھما کر اپنی طرف کیا، پھر سائرہ کی طرف۔ حنا باجی پہلی بار کھڑکی کے سامنے کھڑی ہو کر بھی باہر رہ گئیں۔
"دیکھو سائرہ،" عمر نے دبے غصے میں کہا، "یہ سب لوگوں کے سامنے…" "ہاں، لوگوں کے سامنے ہی،" سائرہ نے اس کی بات کاٹی۔ "کیونکہ ذلت بھی لوگوں کے سامنے دی گئی تھی۔" خالہ نسرین نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، "میرا بیگ سائرہ کو دو۔" یہ جملہ حنا باجی کے لیے معمولی نہیں تھا۔ بیگ میں رپورٹس تھیں، پرانی پرچیاں، دواؤں کی فہرست، اور وہ چھوٹی ڈائری جس میں گھر کے نمبر لکھے تھے۔ انہوں نے بیگ مضبوطی سے پکڑا رکھا۔ خالہ نسرین نے دوبارہ کہا، اس بار صاف، "سائرہ کو دو۔ وہ جانتی ہے۔" عمر نے ہاتھ بڑھایا، شاید بیگ لے کر معاملہ نرم کرنا چاہا۔ سائرہ نے اس کے ہاتھ سے پہلے بیگ پکڑ لیا۔ وہ کسی کی مہربانی وصول نہیں کر رہی تھی؛ وہ سیدھا قبضہ لے رہی تھی۔
کلرک نے اندر فون کیا، دو لفظ بولے، پھر کھڑکی کے اوپر لٹکی پٹیچے جیسی ناموں کی تختی اتاری جس پر آج کی ترجیحی داخلات لکھے جاتے تھے۔ اس نے مارکر ڈھونڈا۔ "کس نام سے لکھوں؟ مریضہ کے ساتھ کون اندر جا رہا ہے؟" حنا باجی جیسے اسی سوال کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ آگے جھکیں۔ "عمر احمد، بیٹا۔ یہی لکھیں۔" اسی لمحے اندر سے نرس نکلی، ہاتھ میں پچھلی فائل کا ڈھیلا سا گتھا۔ "یہ کس نے بتایا تھا الرجی والا نوٹ؟ اسی کے دستخط چاہییں۔ ورنہ ڈاکٹر کیس واپس بھیج دیں گے۔" اس نے کاغذ ہلایا، پھر نظریں گھما کر سیدھا سائرہ پر روک دیں۔ "آپ تھیں نا؟ ادھر آئیے۔"
یہ آخری کوشش تھی، اور وہیں ٹوٹی۔ حنا باجی نے تیزی سے کہا، "نہیں، دستخط گھر والے کریں گے۔" سائرہ نے فائل نرس کے ہاتھ سے نہیں چھینی؛ اس نے اپنی رسید اور شناختی کارڈ کھڑکی پر ساتھ رکھے اور اتنی آواز میں بولی کہ بنچ، قطار، خالہ نسرین، عمر، سب سنیں: "مریضہ نسرین آمنہ کی فائل میں اگلا رابطہ، ادائیگی اور تیمارداری میری ذمہ داری پر درج ہے۔ میرا نام سائرہ عارف لکھیں۔ اور ترجیحی داخلہ مریضہ کے ساتھ میرے نام سے لگے گا۔ نسبت چھپائی نہیں جا رہی۔ سب کے سامنے لکھیں۔"
کلرک نے کوئی بحث نہیں کی۔ اس نے مارکر کھولا، تختی پر پہلے سے لکھا "عمر احمد" ایک سخت کالی لکیر سے کاٹا؛ سیاہی اتنی موٹی تھی کہ نام کا چہرہ بگڑ گیا۔ پھر نیچے واضح حروف میں لکھا: "نسرین آمنہ — تیماردار: سائرہ عارف"۔ نرس نے فائل سائرہ کے سامنے کر دی۔ "یہاں دستخط۔" سائرہ نے دستخط کیے، پھر فائل بند نہیں کی بلکہ کھلی حالت میں حنا باجی کی طرف موڑ دی، تاکہ وہ خود وہ خانہ پڑھیں جہاں اسی کا نام درج تھا۔ حنا باجی کے ہونٹ کھلے رہے مگر آواز نہ نکلی۔ ان کے پرس کے نیچے دبایا ہوا ابتدائی فارم کنارے سے باہر پھسل آیا۔ عمر نے اسے اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا، پھر ہاتھ وہیں روک لیا جب نرس نے سائرہ سے پوچھا، "وہیل چیئر ابھی لے چلیں؟"
سائرہ نے خالہ نسرین کا بیگ کندھے پر رکھا، ایک ہاتھ سے وہی دیر سے لوٹائی گئی چابیاں اٹھا کر بیگ کی سامنے والی جیب میں ڈالیں، اور کھڑکی کے برابر لگی نوٹس والی دیوار تک گئی۔ وہاں تختی کے لیے کانٹا ٹنگا تھا۔ اس نے خود ہاتھ اٹھا کر تختی لٹکائی، سیدھی کی، اور انگلی سے اپنے نام کے نیچے مارکر کی ہلکی پھیلی سیاہی ایک بار صاف کی۔ نوٹس والی دیوار پر اب واضح حروف جمے تھے: "نسرین آمنہ — تیماردار: سائرہ عارف"۔ پیچھے قطار کی سمت مڑی ہوئی گردنوں کے اوپر وہ لکھائی ٹھہری رہی۔