Fast Fiction

میرا نام سب سے اوپر رکھ دیا گیا

گاڑی کا دروازہ ابھی صائمہ نے خود کھولا ہی تھا کہ سفید دستانوں والا لڑکا ہاتھ اٹھا کر بولا، “یہ لائن نہیں، آپ سائیڈ پر رکھیے، دلہن والوں کی بڑی فیملی پہلے اترے گی۔” اسی لمحے پیچھے والی کالی گاڑی کے آگے سرخ رسی ہٹائی گئی، پھولوں کا تھال آگے آیا، اور حنا باجی کے لیے دو مستعد لڑکے جھک کر کھڑے ہو گئے۔ صائمہ کے ہاتھ میں دبے پرانے لینیارڈ والا کارڈ پسینے سے نم تھا، کنارے مڑے ہوئے، جیسے برسوں دفتر کے دروازوں سے رگڑا کھا کھا کر نرم ہو گیا ہو۔ کراچی کی نمکیلی ہوا میں اس نے ہال کے روشن بورڈ کو دیکھا، پھر اس رسی کو، جو اس کے لیے نہ تھی۔

مراد نے، جو کبھی اس کے لیے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی نسبت کا دعویٰ کرتا پھرتا تھا، حنا باجی کے ساتھ قدم ملا کر اترتے ہوئے صرف ایک نظر ادھر ڈالی؛ وہ نظر بھی پوری نہ تھی، آدھی، بچتی ہوئی۔ حنا باجی نے اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے بلند آواز میں کہا، “ان کو پیچھے والے دروازے سے لے جائیں، یہ بس ابو کی پرانی جان پہچان ہیں، فرنٹ استقبالیہ پر نام نہیں۔” آس پاس کھڑے دو ماموں، ایک پھوپھی، اور استقبالیہ کے کاؤنٹر پر جھکی لڑکی نے یہ جملہ صاف سنا۔ کاؤنٹر کے کنارے پر ٹیپ، پن، ایک آدھی ٹوٹی کلپ اور ٹھنڈی پڑی چائے کا دائرہ جما ہوا تھا؛ جیسے یہاں فیصلے بھی جلدی میں ہوتے ہوں اور ذلت بھی۔

صائمہ نے فوراً احتجاج نہیں کیا۔ اس نے اپنا چھوٹا سا کپڑے کا بیگ کندھے پر درست کیا، ایک قدم ہٹ کر وہیں کھڑی ہو گئی جہاں عام مہمانوں کو رکنا تھا، پھر بہت آہستہ بولی، “میرا نام ایک بار فہرست میں دوبارہ دیکھ لیجیے۔” استقبالیہ والی لڑکی نے بےزاری سے رجسٹر پلٹا۔ “صائمہ… صائمہ… نہیں ہے۔” حنا باجی نے قریب آ کر صفحہ اپنی ناخن والی انگلی سے دبایا۔ “کہا نا نہیں ہے۔ اور پچھلے گیٹ سے آئیں۔ سامنے والی میزوں پر ہمارے خاص لوگ بیٹھیں گے۔”

یہ “ہمارے” وہی تھا جس نے تین سال پہلے صائمہ کو مراد کے گھر کی ہر ضرورت میں شامل رکھا تھا۔ مراد کی بیمار ماں کو ہسپتال کے کوریڈور میں لے کر بھاگنا، بل جمع کرانا، رپورٹس پکڑنا، حتیٰ کہ ایک رات وہی تھی جس نے عادل صاحب کے دفتر سے خصوصی کاغذ لانے کے لیے اپنی سروس سیکٹر والی نوکری سے چھٹی کاٹی تھی۔ تب حنا باجی اسے “بیٹی” کہتی تھیں۔ آج، اسی ہال کے باہر، وہ “پرانی جان پہچان” تھی۔

پھر ایک اور گاڑی رکی۔ اس میں سے ہال کا مالک عادل صاحب خود اترے، سفید شلوار قمیص، ہلکی واسکٹ، ماتھے پر پسینے کی باریک چمک۔ دروازے کا نگران فوراً سیدھا ہوا، “عادل صاحب آ گئے، راستہ کھالی کریں۔” سب کے جسم ایک ساتھ ایک طرف ہوئے۔ عادل صاحب نے دو قدم چل کر اچانک سر اٹھایا، جیسے کسی مانوس چہرے پر نظر ٹھہر گئی ہو۔ “صائمہ بی بی؟ آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟ آپ کو سامنے کیوں نہیں لیا گیا؟”

ایک سانس میں پوری قطار الٹی پڑی۔ وہی لڑکا جس نے ابھی اسے سائیڈ پر کیا تھا، جھٹ سے رسی اٹھا کر بولا، “ادھر آئیے جی… صائمہ بی بی، گاڑی اندر لانی تھی نا؟” اس کے لہجے میں وہ ادب تھا جو ابھی چند لمحے پہلے حنا باجی کے لیے مخصوص تھا۔ مراد نے پہلی بار پورا رخ اس کی طرف کیا۔ حنا باجی کا چہرہ ایسے سخت ہوا جیسے لپ اسٹک کے نیچے جبڑا بند ہو گیا ہو۔

صائمہ نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے بیگ سے ایک تہہ شدہ لفافہ نکالا۔ لفافے پر ہسپتال کا پرانا اسٹیکر ابھی تک چپکا تھا، کنارے پر نیلی سیاہی کا ایک داغ بھی۔ اس نے کاغذ عادل صاحب کی طرف بڑھایا۔ “آپ کے کہنے پر میں نے اس رات یہ امانت سنبھال لی تھی۔ آج واپس کر رہی ہوں۔ ساتھ ہی وہ ہدایت نامہ بھی، جس پر آپ کے دستخط ہیں۔ آپ نے کہا تھا، ‘اگر کبھی میرے نام پر کوئی تقریب اس خاندان کے حوالے سے ہو اور میرے بڑے بھائی کے حق کا سوال اٹھے، تو ترتیب یہی چلے گی۔’”

عادل صاحب نے کاغذ کھولا، ایک نظر دیکھی، پھر دوسری۔ ان کی انگلی صفحے کے آخر میں اپنے دستخط پر ٹھہری۔ پاس کھڑے منیجر نے جھک کر دیکھا اور فوراً سیدھا ہو گیا۔ کاغذ چھوٹا تھا مگر اثر اس کا لمبا۔ وہ عادل صاحب کے بڑے بھائی، مرحوم سلیم صاحب کی جائیداد کے پرانے تصفیے کا ضمنی حکم تھا: شادی ہال کی اس شاخ کی پہلی سرپرستی، اور خاندان کی تقریبات میں نمائندہ حق، ان کی بڑی بیٹی کے نام۔ صائمہ سلیم کی بیٹی تھی۔ برسوں پہلے ماں کے دوسرے نکاح اور رشتوں کی سیاست نے اسے حاشیے پر دھکیل دیا تھا، مگر دستخط جھوٹ نہیں بولتے تھے۔

عادل صاحب نے سر اٹھا کر منیجر سے کہا، “فرنٹ استقبالیہ دوبارہ لگاؤ۔ صائمہ بی بی کو مرکزی آمد میں لاؤ۔ اور جو نشستوں کی آخری ترتیب بنی ہے، وہ میرے سامنے لاؤ ابھی۔” یہ جملہ سیدھا تھا، مگر اس نے حنا باجی کے پورے اعتماد میں دراڑ ڈال دی۔ “عادل بھائی، یہ وقت ہے پرانی باتیں نکالنے کا؟ بچے کی شادی ہے، بدنامی ہو گی—” “بدنامی ابھی ہوئی ہے،” عادل صاحب نے کاغذ موڑے بغیر کہا، “جب حق والی لڑکی کو پچھلے دروازے بھیجا گیا۔”

کاؤنٹر کے پیچھے سے ناموں والی سخت کارڈ شیٹیں نکالی گئیں۔ منیجر نے ایک لکڑی کے تختے پر چسپاں میزوں کا نقشہ عادل صاحب کے سامنے رکھا۔ اس کے اوپر سنہری قلم رکھی تھی، جس کے کنارے پر دانتوں کا پرانا نشان تھا۔ صائمہ نے پہلی بار ہاتھ بڑھا کر وہ قلم اٹھائی۔ مراد ایک قدم آگے آیا، آواز نیچی رکھی، “صائمہ، ابھی رہنے دو۔ بعد میں بات کر لیتے ہیں۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔” اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر پوچھا، “جب تم نے مجھے ‘پرانی جان پہچان’ بننے دیا تھا، تب بھی سب لوگ دیکھ رہے تھے؟”

استقبالیہ کے سامنے اب باقاعدہ ہجوم نہیں، بلکہ دائرہ بن گیا تھا؛ وہ خطرناک قسم کا دائرہ جس میں ہر شخص سن بھی رہا ہوتا ہے اور سننے سے انکار بھی نہیں کر سکتا۔ منیجر نے میزوں کا نقشہ صائمہ کی طرف گھما دیا۔ اوپر مرکزی میز پر دلہا، دلہن، حنا باجی، مراد، دو اہم بزرگوں کے نام تھے۔ ایک کنارے والی میز پر، ستون کے پیچھے، “صائمہ” چھوٹے حروف میں لکھا تھا، جیسے کسی نے بس خانہ پورا کرنے کو رکھ دیا ہو۔

عادل صاحب نے سب کے سامنے کہا، “آخری ترتیب صائمہ بی بی کے حکم سے ہو گی۔ جو نام اوپر ہوں گے، وہی استقبالیہ میں پہلے لیے جائیں گے۔” یہاں پہلی بار مراد کے چہرے سے خون اترتا دکھا۔ اس کی مشکل صرف یہ نہ تھی کہ صائمہ بول رہی تھی؛ مشکل یہ تھی کہ اب عملہ اس کے بجائے اس کی بات سننے کو کھڑا تھا۔

حنا باجی نے فوراً پرانا ہتھکنڈا بدلا۔ آواز نرم، مگر دانت اندر سے جڑے ہوئے۔ “بیٹی، غصے میں اپنی ہی عزت خراب نہ کرو۔ عورت کو ایسے مجمع میں ہاتھ ہلکا رکھنا چاہیے۔ تمہارا نام لگا دیں گے، آگے بٹھا دیں گے، بات ختم کرو۔” صائمہ نے نقشے پر جھکے جھکے کہا، “نہیں۔ بات نام لگانے کی نہیں تھی۔ بات یہ تھی کہ آپ نے فیصلہ کر لیا تھا کس کو دروازہ ملے گا، کس کو راستہ، کس کو سلام، کس کو ستون کے پیچھے کرسی۔ اب ترتیب پوری بدلے گی۔”

اس نے سب سے پہلے اپنی جگہ اٹھا کر مرکزی میز کے دائیں طرف رکھی، عادل صاحب کے نام کے برابر والی قطار میں۔ پھر سلیم صاحب کی بیوہ، جو اب تک پچھلی میز پر رکھی گئی تھیں، ان کا کارڈ کھینچ کر سامنے لے آئی۔ دلہے کے ایک ایسے چچا کا نام، جو محض سرمایہ لانے کی وجہ سے اوپر چڑھایا گیا تھا، نیچے سرکا دیا۔ حنا باجی کا کارڈ اس کے بعد ایک درجے پیچھے گیا، مرکزی قطار سے ہٹ کر اگلی میز کے سرے پر۔ ہر حرکت چھوٹی تھی، مگر تختے پر کاغذ کی سرسراہٹ ایسے سنائی دے رہی تھی جیسے ریشم پر چھری پھیری جا رہی ہو۔

مراد نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ روکنا چاہا۔ منیجر نے پہلی بار اس کے ہاتھ کے سامنے اپنا رجسٹر رکھ دیا۔ “جناب، ابھی ترتیب جاری ہے۔” یہ چھوٹا سا روکا جانا مراد کے لیے تھپڑ سے کم نہ تھا۔ دو کزن، جو ابھی تک اس کے گرد کھڑے تھے، پیچھے ہٹ گئے۔ حنا باجی بول اٹھیں، “تم لوگ پہچانتے نہیں ہو کس سے بات کر رہے ہو؟” دروازے کا نگران، جس نے پہلے صائمہ کو سائیڈ کیا تھا، اب سیدھا ہو کر بولا، “جی، اب پہچان لیا ہے۔”

حنا باجی کے لب لرزے۔ “مراد، کچھ کہو۔” مراد نے پہلی بار درخواست کے لہجے میں کہا، “صائمہ، ایک کرسی نیچے اوپر کرنے سے کیا ملے گا؟ میرے ساتھ اندر آ جاؤ، میں سب کے سامنے—” “تم کچھ بھی سب کے سامنے نہیں کہو گے۔” صائمہ نے آخری کارڈ اٹھایا۔ “جو کہنا تھا، تم نے خاموش رہ کر کہہ دیا تھا۔”

پھر وہ لمحہ آیا جس کے لیے ہال کا پورا نظام ایک دم محتاج بن گیا۔ منیجر نے پوچھا، “استقبالیہ پر پہلے کس نام سے خیرمقدم شروع کیا جائے؟ بڑے بزرگ پہنچ رہے ہیں۔” یہ سوال عادل صاحب سے بھی ہو سکتا تھا، مگر وہ صائمہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ صائمہ نے تختے کے اوپر لگی شفاف پٹی نکالی، جس میں اولین استقبال کے کارڈ لگنے تھے۔ اس نے ترتیب بدل دی: پہلے “بیگم نسرین سلیم”، پھر “صائمہ سلیم”، پھر عادل صاحب۔ حنا باجی اور مراد کے نام اس پٹی سے نکل کر دوسرے درجے کی قطار میں چلے گئے۔ اس نے پٹی منیجر کے ہاتھ میں دے کر کہا، “فرنٹ دروازہ انہی تین ناموں سے کھلے گا۔ اور جب بڑی خالہ آئیں، انہیں میری والدہ کے ساتھ مرکزی میز تک لایا جائے۔ حنا باجی اپنی میز پر بعد میں جائیں گی۔”

یہ فیصلہ صرف کرسیوں کا نہ تھا؛ یہ دروازے کے حق، سلام کے حق، پہلے قدم کے حق کا تھا۔ استقبالیہ کے لڑکوں نے بغیر دوبارہ پوچھے نئی پٹی لگا دی۔ سرخ رسی دوبارہ اٹھائی گئی، مگر اس بار بیچ میں جگہ صائمہ کے لیے کھلی۔ سامنے سے آنے والے دو بزرگوں نے پرانی عادت میں حنا باجی کی طرف قدم بڑھایا، پھر نگران کے ہاتھ کے اشارے سے رخ بدل کر بیگم نسرین سلیم کی جانب گئے۔ حنا باجی آدھے قدم پر رہ گئیں۔ یہی آدھا قدم ان کے پورے رعب کو لے ڈوبا۔

مراد نے قریب آ کر بہت دھیمی آواز میں کہا، “میں غلط تھا۔ بس یہ ایک بار مجھے ذلیل مت کرو۔” صائمہ نے اس کی طرف دیکھا۔ پہلی بار، سیدھا۔ اس کی آنکھوں میں نرمی نہ تھی، صرف پیمائش تھی۔ “ذلت میں نے نہیں دی۔ میں نے صرف جگہ درست کی ہے۔” پھر اس نے اپنے ہاتھ سے حنا باجی کا کارڈ اٹھا کر اگلی میز کے آخری سرے پر رکھا، جہاں بیٹھنے والے کو مسلسل گردن موڑ کر مرکزی میز دیکھنی پڑتی تھی۔ “یہ ٹھیک ہے۔”

اندر جانے سے پہلے عادل صاحب نے احترام سے راستہ دیا۔ بیگم نسرین سلیم، جو دیر سے آئی تھیں اور اب تک ساری بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں، صائمہ کے ساتھ مرکزی دروازے سے داخل ہوئیں۔ پیچھے عملہ ایک نئی ترتیب میں حرکت کر رہا تھا؛ کون پہلے سلام کرے گا، کس کے لیے کرسی کھینچی جائے گی، کس کے سامنے ٹرے پہلے رکے گی۔ کسی نے اعلان نہیں کیا، مگر ہر حرکت اعلان بن گئی۔

لینڈنگ کے تنگ سے راستے میں، جہاں ہال کی سیڑھی مڑ کر اندرونی دروازے تک جاتی تھی، جسم خود بخود نئی صف میں کھل گئے۔ صائمہ نے قدم بڑھایا تو آگے کھڑے عشر لڑکے کی آستین پہلے ہٹی، کپڑا ایک نرم لکیر کی طرح کنارے کو سرک گیا، اور راستہ اس کے سامنے صاف ہو گیا۔