Fast Fiction

سامان کی لائن الٹی پڑ گئی

چائے کا کاغذی کپ کاؤنٹر پر رکھ کر لڑکے نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور رولنگ شٹر کے نیچے سے نکلا ہوا پھولوں کا کریٹ دوبارہ اندر کھینچ لیا۔ “میڈم، ریلیز نہیں ہوگی، آرڈر ہولڈ پر ہے۔” پارکنگ پک اپ لین میں گاڑیوں کے ہارن، جنریٹر کی بھنبھناہٹ اور ہال کے پچھلے راہداری کے بلب کی مسلسل ہَم کے بیچ حرا نے صرف اتنا دیکھا کہ اس کے پیچھے کھڑی خالہ نسرین نے دوپٹہ ٹھیک کیا اور سائرہ باجی نے سب کے سامنے اپنی کلائی سے لٹکا گِھسا ہوا گیٹ پاس ہلایا جیسے اصل مالک وہی ہوں۔

حرا یہاں مہندی کے اسٹیج کی آخری کھیپ لینے آئی تھی: پھول، سائن بورڈ، مہمانوں کی میزوں کے نمبر، وہ سب جس کا بقایا اس نے اپنی جیب سے بھر کر بچایا تھا جب فہد کے گھر والوں نے “بعد میں دیکھیں گے” کہا تھا۔ منگنی کو مہینہ ہوا تھا، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، اس لیے ذلت تنہا نہیں لگتی تھی؛ لگتا تھا جیسے کسی نے پورے رشتے کو اسی پارکنگ کے کنارے کھڑا کرکے روک دیا ہو۔ اس نے اپنا ٹرانزٹ کارڈ والا بٹوا مضبوطی سے پکڑا۔ “ہولڈ کس کے کہنے پر؟”

سائرہ باجی نے جواب خود دیا، اسٹاف کے لیے نہیں، تماشائیوں کے لیے۔ “میرے کہنے پر۔ دلہن والوں کا سامان ہے، ہر کوئی آکر نہیں لے جا سکتا۔ پہلے تصدیق ہوگی، پھر نکلے گا۔” پھر اس نے لڑکے سے کہا، “اور اسے سائیڈ پر کر دو، لین مت روکو۔” وہی حرکت کافی تھی: نشست نہیں، باری نہیں، رسائی نہیں۔ حرا کے لیے خالی پڑی پلاسٹک کرسی بھی ایک ویٹر نے اٹھا کر دُلہن کے ماموں کے پاس رکھ دی۔

حرا نے کرسی کے پیچھے نہ دیکھا۔ “بُکنگ میرے نام پر ہے۔ پیشگی رقم میرے اکاؤنٹ سے گئی تھی۔” “نکاح ابھی ہوا نہیں، ناموں سے کچھ نہیں ہوتا،” سائرہ باجی نے ہلکی آواز میں کہا، مگر اتنی ہلکی بھی نہیں کہ خالہ نسرین، دو ڈرائیور اور لوڈر نہ سن سکیں۔ “گھر کے بڑے فیصلہ کرتے ہیں۔ تم نے جتنا کام کیا، شاباش۔ اب حد میں رہو۔” کاؤنٹر کے کنارے ٹھنڈی ہوتی چائے نے گول نشان چھوڑ دیا تھا۔ انتظار کا داغ سامنے پڑا تھا، جیسے اس کے نام پر۔

شٹر کے اندر کریٹس قطار میں تھے: سفید گلاب، سنہری رنر، ایل ای ڈی بورڈ، مہندی کے پیتل کے لیمپ۔ ہر چیز موجود تھی، مگر باہر آنے کی اجازت سائرہ باجی کی کلائی سے لٹکے پاس میں بند تھی۔ خالہ نسرین قریب آکر سرگوشی میں بولیں، “بیٹا، ابھی جھگڑا نہ کرو، لڑکے والے ہیں، منہ دیکھنا ہے آگے بھی۔” سائرہ باجی نے فوراً اس جملے پر قبضہ کرلیا۔ “بس یہی بات سمجھ لو۔ عزت سے ایک طرف ہوجاؤ، فہد آ رہا ہے، وہ دیکھ لے گا۔”

فہد آیا بھی، مگر سیدھا حرا کے پاس نہیں۔ پہلے اپنی بہن کے پاس رکا، پھر ایک نظر حرا پر ڈالی، جیسے دونوں کو ایک ہی فریم میں رکھنا اسے مہنگا پڑ رہا ہو۔ “کیا مسئلہ ہے؟” سائرہ باجی نے اس کی طرف پاس بڑھایا۔ “کوئی مسئلہ نہیں، بس جلدی میں آکر لینے لگیں۔ میں نے روک دیا۔” حرا نے اس کے ہاتھ کی طرف نہیں دیکھا۔ “تمہیں معلوم ہے بقایا میں نے ادا کیا تھا۔ اگر آج یہ نہ نکلا تو اسٹیج آدھا خالی رہے گا۔” فہد نے اردگرد کھڑے رشتے دار دیکھے، پھر وہی نرم بزدلی چن لی جو سب کے سامنے سب سے زیادہ سخت لگتی ہے۔ “حرا، سین مت بناؤ۔”

اس ایک لفظ پر پارکنگ کی ہوا اور تنگ ہوگئی۔ حرا نے بٹوے سے رسید کی تہہ نکالی، مگر سائرہ باجی نے ہاتھ اٹھا کر لڑکے کو اشارہ کیا۔ “کاغذ بہت ہوتے ہیں۔ ریلیز کوڈ میرے پاس ہے، اور گیٹ پاس بھی۔ جب تک میں نہ کہوں، کچھ باہر نہیں آئے گا۔” پھر اس نے ویٹر سے وہ ٹرالی بھی دوسری طرف موڑوا دی جو حرا کی گاڑی کے سامنے لگی تھی۔ ایک چھوٹا سا حکم، مگر پورا راستہ بند ہوگیا۔

حرا نے رسید واپس تہہ کی، فون نکالا، اور اس نمبر پر کال ملائی جو عام گاہکوں کو نہیں دیا جاتا تھا۔ سائرہ باجی کی بھنویں ہلکی سی اٹھیں؛ شاید انہوں نے اسے دوبارہ کسی دوست، کسی کزن، کسی بےکار سفارش کا فون سمجھا۔ مگر دوسری گھنٹی پر ادریس صاحب نے اٹھایا، وہی مالک جن کے ساتھ حرا نے تین بڑے کارپوریٹ ایونٹ کیے تھے جب وہ سروس سیکٹر کی اسی بھاگ دوڑ میں راتیں کاٹتی رہی تھی۔ حرا کی آواز ہموار رہی۔ “ادریس صاحب، نوریہ ہال، پچھلا پک اپ ایج۔ میری بکنگ ہولڈ کی گئی ہے۔ بقایا ادا شدہ ہے۔ آپ نے ریلیز اختیار کس کے نام ڈالا تھا؟ میں ابھی کاؤنٹر پر ہوں، آپ لڑکے سے بات کریں۔”

اس نے فون کاؤنٹر کے اندر بڑھا دیا۔ لڑکے نے پہلے سائرہ باجی کی طرف دیکھا، پھر فون لیا۔ ادریس صاحب کی آواز اتنی اونچی تھی کہ سپیکر کے بغیر بھی پاس کھڑے تین آدمیوں نے سن لی۔ “جس نام پر پیشگی اور بقایا دونوں آئے ہیں، ریلیز اسی کے حکم سے ہوگی۔ فائل نکالو، حرا بانو کی۔ اور سنو، اسٹیج والے دو کریٹ نہیں، پوری مہندی کھیپ ان کے اشارے پر نکالنی ہے۔ ابھی۔”

حرکت فوراً بدلی۔ لڑکا اندر دوڑا۔ دوسرے لوڈر نے ٹرالی واپس موڑی۔ شٹر کے نیچے سے پہلے سفید گلاب والا کریٹ باہر آیا، اس کے بعد سنہری رنر، پھر بورڈ۔ سائرہ باجی کے ہاتھ میں لٹکا پاس اچانک محض پلاسٹک لگا؛ اصل اطاعت فون کے ایک جملے کے ساتھ حرا کی طرف مڑ گئی۔ فہد نے ایک قدم بڑھایا، مگر اس کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا جو اس کی بہن اور منگیتر دونوں کے سامنے اسے کمزور نہ دکھاتا۔

“ایک منٹ۔” سائرہ باجی نے خود کو سنبھالا اور فوراً اگلا وار کیا۔ “چلو مان لیا تم ایک کھیپ لے سکتی ہو۔ باقی دُلہا سائیڈ کی منظوری کے بعد نکلے گی۔ کچھ چیزیں ہماری طرف کی بھی ہیں۔ سب کچھ یوں نہیں اٹھ سکتا۔” اس نے خالہ نسرین کو درمیان میں کھینچا۔ “خالہ، آپ ہی بتائیں، کل کو کوئی کہے گا لڑکے والوں کو پوچھا تک نہیں گیا۔”

خالہ نسرین کی سانس اٹکی۔ وہ صاف انکار کا حوصلہ نہ رکھتی تھیں، صاف حمایت کا خرچ نہ دے سکتی تھیں۔ یہی سائرہ باجی کا کھیل تھا: بزرگ کا سایہ لے کر قبضہ رکھو۔ مگر اب حرا کے ہاتھ میں صرف رسید نہیں تھی، راستہ تھا۔ اس نے کاؤنٹر کے اندر پڑی لوڈنگ رجسٹر کی طرف دیکھا، پھر ادریس صاحب کی بات یاد کرکے سیدھا کہا، “پورا مہندی آرڈر ایک روٹ پر نکلے گا۔ آدھا چھوڑا تو ہال کی ذمہ داری ہوگی۔” لڑکے نے رجسٹر کھولا۔ “میڈم، کن چیزوں سے شروع کریں؟” یہ سوال سائرہ باجی سے نہیں، حرا سے تھا۔ سماعت نے طرف بدل لی تھی۔

حرا نے انگلی سے ترتیب بدل دی۔ “پہلے اسٹیج کے لیمپ اور بیک ڈراپ۔ پھر میزوں کے نمبر۔ آخر میں پھول۔ سامنے والی سلور کرولا میں دو چکر نہیں ہوں گے، ایک ہی دفعہ مکمل لوڈ ہوگا۔” “وہ گاڑی ہماری طرف کی ہے،” سائرہ باجی نے تیزی سے کہا، “اس میں پہلے دُلہا سائیڈ کے گفٹ ہیمپر جائیں گے۔” “آج نہیں،” حرا نے ٹھنڈے لہجے میں کہا، “یہ لین ابھی مہندی کھیپ کی ہے۔ ہیمپر بعد کی باری میں رکھو۔”

یہ صرف ایک جواب نہیں تھا؛ پورا قطار نامہ الٹ گیا۔ لوڈر نے گفٹ ہیمپر والی ٹوکری واپس اندر سرکا دی۔ سامنے کھڑا ڈرائیور، جو اب تک سائرہ باجی کے اشارے دیکھ رہا تھا، حرا کے قریب آکر بولا، “باجی، سیٹیں فولڈ کردوں؟” “کردو۔ اور پچھلی چادر بچھاؤ، لیمپ کھرچنے نہیں چاہئیں۔” فہد نے پہلی بار صاف بےچینی میں کہا، “حرا، بات اتنی دور لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ سائرہ آپا صرف ترتیب دیکھ رہی تھیں۔” حرا نے اسے دیکھا بھی نہیں۔ “اب ترتیب میں ہوں۔”

شٹر مزید اوپر اٹھا، پھر آدھا ہی روکا گیا تاکہ ایک وقت میں ایک ہی روٹ کھلے۔ اندر کی فلوروسینٹ روشنی باہر کی زرد پارکنگ لائٹ پر کاٹ کھا رہی تھی۔ ایک کے بعد ایک چیز حرا کی گاڑی کی طرف جانے لگی۔ سائرہ باجی نے کلائی اٹھا کر اپنا پاس دکھایا۔ “یہ ابھی بھی میرے پاس ہے۔ گیٹ سے باہر کوئی چیز میرے سائن کے بغیر نہیں نکلے گی۔” کاؤنٹر والا لڑکا ہچکچا گیا۔ یہ آخری پناہ گاہ تھی: اگر باہر جانے والا نشان اس کے پاس ہے تو شاید کھیل واپس مڑ جائے۔

حرا نے ہاتھ بڑھایا۔ “پاس دکھائیں۔” سائرہ باجی نے طنز سے ہنسا۔ “کیوں؟ دیکھنے سے مالک بن جاؤ گی؟” حرا نے جواب میں اپنا بٹوا کھولا، شفاف جیب سے اصل عارضی گیٹ پاس نکالا، وہی جو ادریس صاحب نے ہر بکنگ کے مرکزی ادا کنندہ کو دیا تھا مگر جسے سائرہ باجی نے پہلے دن “میں رکھ لیتی ہوں، گم ہوجائے گا” کہہ کر لے لیا تھا۔ پرانا مڑا ہوا ربن، کنارے سے گھسا ہوا، مگر نام صاف: حرا بانو۔ اس نے اسے دو انگلیوں کے بیچ سیدھا کیا اور کاؤنٹر کے لڑکے کے سامنے رکھا۔ “یہ اصل ہے۔ جو ان کے پاس ہے وہ اندرونی نقل ہے۔ باہر والا شٹر اور پک اپ روٹ میرے پاس سے کھلے گا۔”

سائرہ باجی کا رنگ ایک لمحے کو ایسا بدلا جیسے کسی نے مہنگے میک اپ کے نیچے سے اصل جلد دکھا دی ہو۔ “یہ تمہارے پاس کیسے—” “جہاں سے تم نے لیا تھا، وہاں سے واپس لے لیا۔” حرا نے بات کاٹ دی۔ اس نے پاس اپنی گردن میں نہیں ڈالا؛ بس کاؤنٹر سے شٹر کی طرف قدم بڑھائے اور لوڈر کو اشارہ کیا۔ “آخری کھیپ سیدھی میری لین میں۔ جس چیز پر مہندی ٹیگ ہے، باہر۔ باقی اندر رہنے دو۔”

آخری کھیپ میں بیک ڈراپ کے فریم تھے، لمبے، اٹکتے ہوئے، جن کے نکلنے سے راستہ پوری طرح ظاہر ہوگیا۔ اب چھپانا ممکن نہ تھا کہ کون حکم دے رہا ہے۔ لوڈر ایک قطار میں حرا کی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سائرہ باجی نے پہلی بار آواز نیچی کی۔ “حرا، ایک منٹ۔ کم از کم ہیمپر تو نکلوا دو۔ مہمان آ چکے ہیں۔” حرا نے شٹر کے کنارے کھڑے ہوکر پاس اپنی انگلی میں گھمایا۔ “اب آپ باری مانگ رہی ہیں؟”

فہد نے قدم بڑھایا، اس بار بہن کی طرف سے نہیں، اپنی ضرورت کی طرف سے۔ “دیکھو، لوگ کھڑے ہیں۔ ہمیں ایک راستہ دے دو۔” یہ وہی آدمی تھا جس نے پانچ منٹ پہلے کہا تھا سین مت بناؤ۔ اب اس کی نظریں کاؤنٹر، لوڈر، خالہ نسرین، ڈرائیور، سب سے بچتی پھر رہی تھیں۔ سائرہ باجی نے زور سے نہیں، دبی گھبراہٹ سے کہا، “کم از کم میرا پاس واپس کرو، گیٹ پر رُک جائے گا سامان۔” حرا نے شٹر کے بیرونی ریل پر ہاتھ رکھا۔ “آپ کا نہیں تھا۔ اسی غلطی پر اتنی دیر سب کھڑے رہے۔”

اس نے کاؤنٹر والے لڑکے کو پاس دکھایا، پھر صاف، مختصر حکم دیا۔ “اس پاس پر میری گاڑی پہلے نکلے گی۔ اس کے بعد یہ شٹر آدھا کھلا رہے گا۔ مہندی کھیپ مکمل ہونے تک صرف میری لین چلے گی۔ دُلہا سائیڈ کا سامان اگلی باری میں، نئی پرچی کے بعد۔ اگر انہیں کچھ چاہیے ہو تو درخواست اندر دے دیں۔” لڑکے نے فوراً سر ہلایا۔ “جی، باجی۔” یہ “باجی” سائرہ کے لیے نہیں تھا۔

آخری فریم گاڑی میں چڑھ گیا۔ گفٹ ہیمپر اندر ہی رہ گئے، پھول باہر جا چکے تھے، راستہ ایک طرف مڑ چکا تھا۔ سائرہ باجی شٹر کے باہر اس مقام پر کھڑی تھیں جہاں ابھی کچھ دیر پہلے حرا کھڑی تھی: نہ کرسی، نہ باری، نہ حکم۔ فہد نے کچھ کہنا چاہا، مگر اس کے الفاظ اس کے اپنے دانتوں کے پیچھے رہ گئے۔ حرا نے اصل پاس اپنی انگلی سے کاؤنٹر کے اندر لوہے کے ہک پر لٹکایا، شٹر کے کنارے کو آدھا نیچے چھوڑا، اور اپنی طرف کھلی رہنے والی دھاتی دراڑ کے سامنے سے سیدھی گزر گئی۔