اسپاٹ لائٹ پلٹ کر اس پر پڑی
فراز نے اپنی فائل مہرو کی گود میں دے ماری اور بینچ کے سرے پر بیٹھے وارڈ بوائے سے کہا، “اسسٹنٹوں کو پیچھے کھڑا رکھو، امیدوار سامنے رہیں گے۔” کوریڈور کے نیلے پلاسٹک بینچ پر جگہ پہلے ہی تنگ تھی، مگر یہ تنگی اتنی نہیں تھی جتنی جان بوجھ کر پیدا کی گئی تھی۔ مہرو کے ہاتھ میں کاغذوں کی خشک آواز اٹھی؛ بھورے لفافے کی تہہ اس کی انگلی کے نیچے چرمرائی۔ اس کے آستین پر رات کی ڈیوٹی کی شکنیں ابھی تک جمی تھیں۔ سامنے شیشے والے دروازے پر سفید کاغذ چپکا تھا: “اوپن ڈائیگناسٹک اسکل ٹرائل — فائنل سلیکشن.” اندر ججز کی میز پر لیمپ جل رہا تھا، باہر بیٹھے امیدوار اپنی اپنی فائلیں سینے سے لگائے ہوئے تھے، اور سب کی نظروں کے بیچ فراز پہلے ہی منتخب آدمی کی طرح سانس لے رہا تھا۔
خالہ صائمہ نے دوپٹے کا پلو سنبھالتے ہوئے مہرو کو دیکھا، پھر فوراً نگاہ ہٹا لی، جیسے پہچان لینا بھی اس وقت مہنگا پڑ جائے گا۔ وہ فراز کی ماں کی سہیلی تھیں، اسی نسبت سے آج یہاں “اپنوں” کی نشست پر کھڑی تھیں۔ دو بزرگ عورتیں سرگوشی میں بولیں، “یہی ہے نا وہ لڑکی؟ جس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے… مگر نوکری ابھی تک نہیں لگی؟” دوسری نے فراز کی طرف دیکھ کر ہونٹ سکیڑے، “اور ادھر ایم فل، سرٹیفیکیٹ، اسپتال کے بڑے لوگوں سے جان پہچان۔ فیصلہ تو واضح ہے۔”
مہرو نے فائل واپس فراز کی گود میں رکھ دی۔ “میں اسسٹنٹ نہیں ہوں۔ امیدوار ہوں۔ نام فہرست میں موجود ہے۔” یہ اس صبح کا پہلا انعام تھا: سامنے رجسٹریشن کھڑکی کے پاس بیٹھی ندا نے گردن اٹھا کر بلند آواز میں پڑھا، “مہرو عارف… نمبر سات… موجود۔” آواز اتنی اونچی تھی کہ پوری بینچ نے سن لی۔ ایک لمحے کو وہ تحقیر کٹ گئی جو فراز نے اس کے لیے باندھی تھی۔ مگر فراز فوراً ہنسا، “نام ہونا اور سطح ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔”
ندا نے رجسٹر پلٹا، “نمبر سات کے لیے سٹیتھوسکوپ کِٹ اور کیس پیڈ تیار رکھیں۔” فراز کے چہرے پر ہلکی سوزش آئی۔ وہ فوراً اٹھا، کاؤنٹر تک گیا، اور کیس پیڈ کا سبز تختہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ “یہ راؤنڈ میری لائن کا ہے۔ اس نے تو بس شیڈو کیا ہے۔ اصل مریض پڑھنا آتا ہو تب نا۔” ججز روم کے باہر موجود سب نے یہ حرکت دیکھی۔ یہ صرف بات نہیں تھی؛ اس نے آلے پر ہاتھ رکھ کر مہرو کی باری جسمانی طور پر موڑ دی تھی۔ خالہ صائمہ کی پیشانی پر شکن پڑی۔ “مہرو، ضد نہ کرو۔ یہاں عزت کا معاملہ ہے۔ ناکامی اکیلی نہیں جاتی، گھر تک جاتی ہے۔”
مہرو نے اپنی ماں کے پرانے پرس سے شناختی پرچی نکالی۔ کنارے گھس چکے تھے۔ “عزت باری چھیننے سے نہیں بچتی، خالہ۔” دروازہ آدھا کھلا اور ڈاکٹر حمید باہر آئے۔ پچپن کے قریب عمر، سرمئی مونچھیں، تیز مگر تھکی ہوئی آنکھیں۔ “اگلا راؤنڈ دو امیدوار ساتھ دیکھیں گے۔ ایک پرائمری ریڈ کرے گا، دوسرا کراس چیک۔” فراز نے فوراً قدم بڑھایا، “سر، اگر وقت بچانا ہے تو میں اکیلا—” ڈاکٹر حمید کی نظر مہرو کی خستہ مگر سیدھی فائل پر ٹھہری، پھر اس سبز کیس پیڈ پر جو فراز نے قبضے میں لیا ہوا تھا۔ “نمبر سات اور نمبر آٹھ۔ دونوں اندر۔ اور کیس پیڈ… جس کے نام ہے، اس کے ہاتھ میں۔”
فراز نے ایک پل کے لیے گرفت ڈھیلی نہیں کی۔ پھر جیسے احسان کر رہا ہو، تختہ مہرو کی طرف بڑھایا، مگر کنارے سے چھوڑا، سیدھا ہاتھ میں نہیں دیا۔ تختہ اس کے گھٹنے سے ٹکرا کر بینچ پر گرنے ہی والا تھا کہ مہرو نے اسے ایک ہاتھ سے تھام لیا۔ پلاسٹک کے بینچ پر بیٹھے دو امیدوار ذرا سیدھے ہو گئے۔ یہ معمولی حرکت تھی، مگر کمرہ پہلی بار دیکھ رہا تھا کہ کون چیزیں سنبھالتا ہے اور کون گراتا ہے۔
اندر demo table کے ساتھ ایک درمیانی عمر کا آدمی بیٹھا تھا، سانس تیز، قمیص کے بٹن سینے پر کھنچے ہوئے۔ ساتھ ایک نرس کھڑی تھی۔ ججز کی میز بائیں طرف تھی، جہاں تین شیٹس پہلے سے رکھی تھیں۔ ڈاکٹر حمید نے مختصر کہا، “کیس: اچانک سانس پھولنا، ہلکا سینہ درد، رات سے خرابی۔ پرائمری ریڈ، فراز۔”
فراز کا لہجہ فوراً بدل گیا؛ اب وہ وہی آدمی تھا جسے سب نے فاتح مان رکھا تھا۔ “اینگزائٹی وِد ہائپر وینٹیلیشن، سر۔ مریض گھبراہٹ میں ہے۔ پہلے اسے پرسکون کریں، پھر نیبولائز—” مریض نے بیچ میں دو کھردرے سانس لیے۔ مہرو کی نظر اس کے ہاتھوں پر گئی۔ ناخن نیلے نہیں تھے، مگر انگلیوں کے پوروں پر سردی جمی تھی۔ گردن کی رگیں معمول سے ابھری ہوئی تھیں۔ اس نے قمیص کے نیچے سے ٹخنے کا سوجا ہوا کنارہ بھی دیکھ لیا جب مریض نے پاؤں بدلا۔ ڈاکٹر حمید نے پوچھا، “بنیاد؟” فراز نے سینے پر سٹیتھوسکوپ رکھا، مگر صرف اوپر اوپر۔ “ویزنگ جیسی آواز ہے۔ اور مریض بے چین ہے۔”
مہرو نے پہلی بار ہاتھ اٹھایا۔ “اجازت؟” فراز نے طنز سے کہا، “اب یہ یوٹیوب والا حصہ آئے گا؟” ڈاکٹر حمید نے سر ہلایا۔ مہرو آگے بڑھی۔ اس نے سٹیتھوسکوپ لیا نہیں، صرف اپنی ہتھیلی مریض کے بازو پر رکھی، نبض گنی، پھر جھک کر سانس کی رفتار دیکھی۔ “گھبراہٹ ثانوی لگ رہی ہے۔ پھیپھڑوں سے زیادہ مسئلہ گردشِ خون کا ہے۔ ٹخنے سوجے ہوئے ہیں، گردن کی رگیں بھری ہیں، لیٹنے سے سانس بگڑ رہا ہے۔ ویزنگ نہیں، نیچے سے باریک crackles ہیں۔” اس نے اب سٹیتھوسکوپ مانگا۔ فراز ایک لمحہ ساکت کھڑا رہا۔ ڈاکٹر حمید نے خود اس کے ہاتھ سے لے کر مہرو کو دیا۔
کمرے کی رفتار بدل گئی۔ باہر بینچ پر بیٹھے امیدوار دروازے کے شیشے سے گردنیں لمبی کر کے دیکھنے لگے۔ خالہ صائمہ دروازے کے چوکھٹ پر آ کر رک گئیں، وہی چھوٹی سی ٹھہری جگہ جہاں سے آدمی اندر بھی ہوتا ہے اور باہر بھی۔ مہرو نے مریض کو ذرا سیدھا بٹھایا، سٹیتھوسکوپ پشت کے نچلے حصے پر رکھا، پھر ایک ایک نقطہ بدلتی گئی۔ “گہرا سانس نہیں، معمولی سانس لیجیے۔” اس نے ججوں کی طرف دیکھے بغیر کہا، “یہ asthma کا سیدھا حملہ نہیں لگ رہا۔ acute cardiac failure کی طرف جا رہا ہے۔ فوری نیبولائزیشن اگر blind دی گئی تو دل پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ پہلے آکسیجن، بیٹھا ہوا رکھیں، فوری ای سی جی اور بی پی دوبارہ۔”
فراز ہنسا، مگر اب آواز میں ہلکی خشکی تھی۔ “سر، ایک سوجا ہوا ٹخنہ دیکھ کر دل فیل کر دیا؟” مہرو نے مریض کے تکیے کی طرف اشارہ کیا۔ “ان کے ساتھ رات کا چھوٹا دوا والا لفافہ آیا ہے۔” نرس نے لفافہ اٹھایا؛ کاغذ کی خشک چرچراہٹ پھر سنائی دی۔ اندر سے فشارِ خون اور دل کی دوا نکلی۔ مریض کی بیوی، جو اب تک دیوار سے چپکی ہوئی تھی، فوراً بولی، “جی، ڈاکٹر نے پچھلے مہینے کہا تھا دل کمزور ہے، مگر کل رات سے زیادہ ہوا بند ہو رہی تھی۔” فراز کا چہرہ ایک دم سخت ہو گیا۔ اس نے دوا کی پٹی کی طرف دیکھا جیسے وہ ابھی ابھی وہاں نمودار ہوئی ہو۔
ڈاکٹر حمید اب سیدھے مہرو کی حرکتوں کو دیکھ رہے تھے۔ “اگلا قدم؟” “پلس آکسی میٹر لگائیں، بی پی دوبارہ لیں، ایمرجنسی کارٹ کو مطلع کریں۔ اور مریض کو flat نہ کریں۔” نرس نے فوراً عمل شروع کیا۔ باہر والے دو امیدوار جو ابھی تک فراز کے ساتھ ہلکے ہلکے مسکرا رہے تھے، اب دروازے کے قریب اس طرف جھک آئے جہاں مہرو کھڑی تھی۔ پینل کی دوسری جج، ڈاکٹر سائرہ، نے پہلی بار قلم اٹھایا۔ “ورکنگ ڈائیگنوسس لکھیں۔” فراز نے فوراً بولنا چاہا، “سر، اگر differential—” “رکیں،” ڈاکٹر سائرہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “جو سن رہے ہیں، وہ لکھنے دیں۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب کمرہ بہانے سے نہیں، عمل سے بندھا۔ مہرو نے کیس پیڈ اپنے سینے سے نہیں لگایا؛ اسے demo table پر سیدھا رکھا، ایسے جیسے جگہ ہمیشہ سے اسی کی ہو۔ “acute decompensated heart failure, likely fluid overload with respiratory distress.” الفاظ کمرے میں ننگے پڑ گئے۔ کسی نے ان پر تالیاں نہیں بجائیں؛ ضرورت بھی نہیں تھی۔ نرس نے آکسیجن ماسک لگایا، مریض کی سانس دو دھڑکن بعد ذرا باقاعدہ ہوئی، اور فراز پہلی بار جگہ ڈھونڈتا دکھائی دیا۔ وہ ججز کی میز کے قریب قدم بڑھا کر کچھ کہنے لگا، مگر ڈاکٹر حمید نے ہاتھ کے اشارے سے اسے side پر کر دیا۔ اتنا سا اشارہ، اور اس کا پسندیدہ امیدوار والا دائرہ سکڑ گیا۔
باہر بینچ پر ترتیب الٹ گئی۔ جو امیدوار پہلے فراز کے گرد تھے، وہ اب دروازے کی اس سائیڈ پر جمع تھے جہاں سے مہرو کی آواز صاف آتی تھی۔ خالہ صائمہ نے ایک دفعہ فراز کو دیکھا، پھر چپ چاپ دوپٹہ سر پر کھینچ لیا۔ ان کی نگاہ میں وہی دیر سے آنے والی احتیاط آ گئی جو لوگ ہار یقینی ہو جانے کے بعد اختیار کرتے ہیں۔
ڈاکٹر حمید نے میز پر رکھی اسکور شیٹس اپنی طرف کھینچیں۔ “فائنل لائیو اسیسمنٹ۔ دونوں کے نمبر ابھی لکھے جائیں گے۔” فراز فوراً سیدھا ہوا، جیسے ابھی بھی کوئی راستہ باقی ہو۔ “سر، مجموعی پروفائل بھی دیکھ لیں۔ میری ڈگری، میرے ریسرچ پوسٹرز—” ڈاکٹر سائرہ نے قلم نہیں روکا۔ “ہم نے لائیو غلطی بھی دیکھی ہے۔” تیسری جج نے مہرو کی فائل مانگی۔ مہرو نے بغیر جلدی کیے فائل آگے رکھی۔ اس کی آستین کی شکنیں اب بھی وہیں تھیں، مگر ہاتھ ساکت اور مضبوط تھے۔
پینل نے لکھا۔ صرف قلم کی آواز تھی اور آکسیجن کے ہلکے سسکارے۔ پھر ڈاکٹر حمید نے ایک شیٹ الگ کی، اوپر “مہرو عارف” کے نیچے عدد درج کیا، دستخط کیے، اور اسے ججز کی میز کے درمیان رکھی شیشے کی وزنی ٹکیا کے نیچے سرکا دیا۔ لیمپ کی روشنی میں نام اور نمبر دونوں صاف چمک اٹھے۔ اسی کے ساتھ دوسری شیٹ کنارے رکھی گئی؛ فراز کے نام والی، تہہ کے نیچے نہیں، ایک طرف۔ یہ اعلان لفظوں سے پہلے ہو چکا تھا۔
فراز نے آخری کوشش میں اپنی فائل اٹھا کر میز کی طرف بڑھائی۔ “سر، ایک منٹ، میرا پورٹ فولیو—” اس کے ہاتھ سے ایک چمکدار سرٹیفیکیٹ پھسلا، میز کے کونے سے ٹکرا کر نیچے فرش پر الٹا جا گرا۔ کسی نے جھک کر اٹھایا نہیں۔ ڈاکٹر حمید نے صرف کلپ بورڈ بند کیا اور ندا سے کہا، “سلیکشن نامہ نمبر سات کے لیے تیار کریں۔” نادا نے اونچی آواز میں دہرا دیا، “نمبر سات۔ مہرو عارف۔”
فراز کے چہرے پر وہی دیر سے آیا ہوا افسوس ابھرا جو آدمی تب لاتا ہے جب کمرہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہو۔ اس نے مہرو کی طرف دیکھا، اس نظر سے نہیں جو پہلے اوپر سے گرتی تھی، بلکہ اس طرح جیسے وہ ابھی کسی پرانی بے ادبی کو واپس لینا چاہتا ہو۔ “مہرو… ایک بات—” مہرو نے اپنی شناختی پرچی، فائل اور وہ سبز کیس پیڈ اٹھایا۔ پھر کیس پیڈ ججز کی میز کے بجائے ندا کے رجسٹر کے ساتھ رکھ دیا، بالکل اپنی طرف والی سمت میں، جیسے کام کی لکیر اب ادھر سے چلے گی۔ “یہیں رہے گا۔ آئندہ نمبر پکارنا ہو تو درست نام پکاریے گا۔”
وہ مڑی، دروازے کے پاس ایک لمحہ چوکھٹ میں رکی، اپنے لاکر کی چھوٹی چابی جو صبح سے جیب میں چبھ رہی تھی نکالی، میز کے کنارے پر رکھ دی۔ “عارضی رسائی کی ضرورت اب نہیں۔” پھر وہ باہر چلی گئی۔
ججز کی میز پر لیمپ کے نیچے مہرو عارف والی اسکور شیٹ شیشے کی ٹکیا تلے دبی رہی، اور باہر نیلا پلاسٹک بینچ، جہاں وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے دھکیلی گئی تھی، اس کی جگہ خالی چھوڑے بیٹھا رہا۔