رسی کے پار، نام میرا لیا گیا
رسی کھنچ کر ماہرہ کے سینے کے برابر آ لگی اور خالہ شگفتہ نے سب کے سامنے ہاتھ کے اشارے سے اسے ایک طرف کر دیا۔ “اوپر والوں کی قطار اِدھر سے جائے گی۔ تم نیچے ہی رہو، لڑکیوں کو سنبھالو، اور مہمانوں کے لفافے رجسٹر تک پہنچاؤ۔” سیڑھیوں کے موڑ پر بھیڑ اٹکی ہوئی تھی؛ ایک طرف پھولوں کی محراب، دوسری طرف رسی والے کھمبے، بیچ میں چڑھتے اترتے رشتے دار۔ دو کزن رک کر دیکھنے لگے۔ ہال کے منتظم نے آنکھ اٹھائی، پھر خالہ کے لہجے پر خاموش ہو گیا۔ ماہرہ کے ہاتھ میں آدھا تہہ شدہ رسید تھی، جس پر اس نے صبح کی آخری ادائیگی کا حساب بار بار کھول کر دیکھا تھا۔ یہ وہی شادی تھی جس کے لئے اس نے پچھلے تین ہفتے سروس سیکٹر والی اپنی نوکری کے بعد شام کو آ کر فہرستیں بنائی تھیں، مگر اس لمحے اس کا نام نہیں، صرف اس کی جگہ طے کی جا رہی تھی۔
ماہرہ نے رسید موڑ کر پرس میں رکھی، لفافوں کی ٹوکری خالہ کے ہاتھ سے نہیں لی۔ “میں لفافے نہیں سنبھالوں گی۔” اس کی آواز اونچی نہیں تھی، مگر اتنی سیدھی تھی کہ قریب کھڑی دو خواتین نے گردن گھما کر دیکھ لیا۔ خالہ شگفتہ کے ہونٹ دب گئے۔ اوپر سے ڈھول کی تھاپ اتر رہی تھی، نیچے کاؤنٹر کے کنارے پر چابیاں، پن، ایک کھلا رجسٹر اور ٹھنڈی پڑی بریانی کا ڈبہ پڑا تھا۔ ماہرہ نے راستے کے بیچ سے ہٹنے کے بجائے سیڑھی کے موڑ کی دیوار کے ساتھ اپنا مقام جما لیا، جیسے وہ خود رسی سے بندھی نہ ہو۔
“بڑی آئی شرطیں رکھنے والی،” خالہ شگفتہ نے اتنا بلند کہا کہ اترتی ہوئی پھوپھی زاد بہن سن لے۔ “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو کوئی نسبت نہیں بن جاتی۔ ہر جگہ منہ اٹھا کے نہیں چڑھا جاتا۔” یہ چوٹ سیدھی تھی؛ نہ انکار، نہ اقرار، بس بیچ میں لٹکاتی ہوئی۔ ارسلان کی ماں کے مرنے کے بعد سے خالہ شگفتہ ہی بڑے گھر کی بولتی بندوق بنی بیٹھی تھی۔ ماہرہ جانتی تھی، سب کو اتنا ضرور پتہ تھا کہ ارسلان اسے چھوڑ کر نہیں جاتا، اور یہ بھی کہ نکاح کی تاریخ کبھی زبان پر نہیں آئی۔ اسی دھند کو خالہ آج رسی بنا کر اس کے سامنے کھینچ رہی تھی۔
نیچے سے ایک بزرگ ماموں اوپر جانے لگے تو خالہ نے ماہرہ کی طرف رجسٹر دھکیل دیا۔ “نام پوچھو، لفافہ لکھو، کام کرو۔ بیٹھنے کی جگہ تو خیر تمہاری ہے نہیں۔” چند لڑکیاں ہنسنے سے خود کو روکتی رہ گئیں۔ منتظم نے عادتاً رجسٹر ماہرہ کی طرف بڑھا دیا، جیسے حکم وہی ہو جو اونچی آواز میں دیا جائے۔ ماہرہ نے رجسٹر پر ہاتھ نہیں رکھا۔ “یہ کس کے کہنے پر؟” اس نے منتظم سے نہیں، خالہ شگفتہ سے پوچھا۔
خالہ نے بھنویں اٹھائیں۔ “میرے کہنے پر۔ کافی ہے۔”
ماہرہ نے وہیں سوال واپس پھینک دیا، مختصر اور صاف۔ “آپ دلہے کی سرپرست ہیں یا صرف راستہ روکنے والی؟” ایک دم سے اوپر چڑھتے دو نوجوان رک گئے۔ نیچے سے آنے والی خالہ زاد بہن کا پاؤں آدھی سیڑھی پر ٹھہر گیا۔ سوال اتنا ہی تھا، مگر اس میں خالہ کا پورا لہجہ پھنس گیا۔ اگر وہ خود کو سرپرست کہتیں تو اگلا نام پوچھا جاتا؛ اگر انکار کرتیں تو حکم کس حق سے دے رہی تھیں؟
خالہ شگفتہ پہلی بار ٹھیک جواب نہ دے سکیں۔ “تم حد سے بڑھ رہی ہو—”
“حد کس نے باندھی ہے؟” ماہرہ نے وہییں کا وہییں بات کا دھاگا کھینچ دیا۔ “اگر اوپر والوں کی قطار ہے تو اُس قطار میں نام کون لگاتا ہے؟ آپ؟” آواز اب بھی قابو میں تھی، مگر اتنی سنائی دے رہی تھی کہ منتظم نے رجسٹر بند کر دیا۔ اس کا ہاتھ کاؤنٹر کے کنارے پر رک گیا، جہاں شکر کے دانے اور پنوں کے بیچ ایک چھوٹا سا کارڈ پڑا تھا۔ کارڈ پر سنہری حروف میں لکھا تھا: استقبال و داخلی ترتیب — رابطہ: ماہرہ۔
منتظم کی نظر کارڈ پر گئی، پھر ماہرہ پر۔ اس نے کارڈ دو انگلیوں سے اٹھایا، جیسے اچانک یاد آیا ہو یہ کسے دیا گیا تھا۔ “یہ تو صبح مجھے انہی نے دیا تھا،” وہ بے اختیار بول اٹھا۔ “دولہے کے کمرے، قریبی بزرگ، اور اوپر والی نشستوں کی ترتیب— سب ان کے نام سے بنی تھی۔” اس ایک جملے نے خالہ کی آواز کے نیچے سے فرش کھینچ دیا۔ قریب کھڑی نادیہ نے، جو دلہن کی چچا زاد تھی اور صبح سے دونوں طرف دوڑ رہی تھی، فوراً کہا، “ہاں، لسٹ بھی ماہرہ نے فائنل کی تھی۔ میں نے خود واٹس ایپ پر خالہ کو بھیجی تھی، پھر انہوں نے کہا تھا ارسلان دیکھ لے گا۔”
خالہ نے جھٹ سے پلٹنے کی کوشش کی۔ “لسٹ بنانا اور اوپر چڑھ جانا ایک بات نہیں۔ ہر کام کرنے والی لڑکی خاندان نہیں ہو جاتی۔” مگر اب وہی جملہ اُلٹا پڑ رہا تھا، کیونکہ منتظم اگلے مہمان کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا؛ وہ ماہرہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ماموں جان نے جو ابھی تک خاموش تھے، اپنی عینک اوپر کی۔ “اگر داخلی ترتیب اسی نے بنائی ہے تو روک کون رہا ہے؟” سوال خالہ سے تھا، جواب پھر بھی نہ بنا۔
اسی لمحے اوپر والی راہداری سے ارسلان اترا۔ شیروانی کے کُرتے پر ابھی تازہ استری کی شکن باقی تھی، مگر چہرے پر وہی تاخیر تھی جو ماہرہ پچھلے مہینے بھر دیکھتی آ رہی تھی— ہر بات بعد میں، ہر نام پھر کبھی۔ خالہ شگفتہ نے اسے دیکھتے ہی سانس پکڑی۔ “ارسلان، اپنی… اپنی دوست کو سمجھاؤ۔ ہنگامہ کر رہی ہے، سیڑھی روک رکھی ہے۔” دوست پر ہلکا سا زور تھا، جیسے لفظ کے ذریعے ہی ماہرہ کو نیچے دھکیلا جا سکتا ہو۔
ارسلان نے پہلے خالہ کو دیکھا، پھر رسی، پھر ماہرہ کے چہرے کو۔ ماہرہ نے اس سے نہ مدد مانگی نہ شکوہ۔ وہ بس ایک قدم رسی کے قریب آئی۔ نیچے سے نئی بھیڑ اوپر دھکیل رہی تھی، اوپر سے دو خواتین نیچے اترنا چاہتی تھیں، اور سیڑھی کا موڑ اتنا تنگ تھا کہ ایک غلط فیصلہ سب کے سامنے ایک درجہ مقرر کر دیتا۔ خالہ نے آخری وار کیا۔ “اسے ایک طرف کرو۔ دلہے کے خاندان کے راستے میں نہ آئے۔”
یہی وہ دھکا تھا جس کے بعد قرض کی طرح لٹکی ہوئی خاموشی ختم ہو گئی۔ ماہرہ نے آہستہ سے منتظم کے ہاتھ سے رجسٹر لیا، اس پر اپنی انگلی رکھی، پھر سب کے سامنے ارسلان کی طرف دیکھے بغیر بولی، “جس عورت سے اس گھر کی ادائیگیاں کروا لو، بزرگوں کی ترتیب بنوا لو، دو ہفتے رات بارہ بجے تک اس کے فون اٹھوا لو، اور پھر سیڑھی پر آ کر کہو تم راستے کی نہیں— تو آج بات صاف ہوگی۔” اس نے رجسٹر خالہ شگفتہ کی طرف نہیں، کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ خشک کاغذ کی آواز فضا میں کٹی۔ “میں کسی کی رکھی ہوئی خالی جگہ نہیں ہوں۔”
خالہ کچھ کہنے کو بڑھیں، مگر ماہرہ نے پہلی بار سیدھا نام لیا۔ “ارسلان شاہد کی ہونے والی بیوی ہوں۔ اگر یہ جھوٹ ہے تو ابھی، یہیں، سب کے سامنے کہہ دیں کہ میں نے اس گھر کے لئے جو حیثیت نبھائی، وہ بغیر نام کے تھی۔ اور اگر سچ ہے تو رسی میرے سامنے سے ہٹے گی، میرے لئے نہیں— میرے حق کے لئے۔”
لفظ “ہونے والی بیوی” سیڑھی کے موڑ پر ایسے گرا جیسے کسی نے چڑھتی قطار کے بیچ لوہے کی سلاخ رکھ دی ہو۔ نیچے سے آتا لڑکا تھم گیا، اوپر والی خالہ نے پاؤں واپس کھینچا، منتظم کا ہاتھ رسی کے کھمبے پر جا رکا۔ خالہ شگفتہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا؛ ابھی تک وہ حکم دے رہی تھیں، اب ان کی گردن ارسلان کی طرف مڑی ہوئی تھی، جیسے جواب ادھر سے مانگنا پڑ رہا ہو۔ یہی ان کی پہلی ہار تھی۔
ارسلان نے دیر کی، مگر اتنی ہی کہ سب دیکھ لیں یہ دیر اب اس کے خلاف جا رہی ہے۔ پھر اس نے ایک قدم نیچے اتر کر خالہ اور ماہرہ کے بیچ آ کر نہیں، ماہرہ کے پہلو میں آ کر کھڑا ہونا چنا۔ “جھوٹ نہیں ہے،” اس نے صاف کہا۔ آواز مائیک کی نہیں تھی، مگر موڑ پر پھنسی ہر سانس تک پہنچی۔ “اور جسے تم دوست کہہ رہی ہو، اُس کے لئے میں نے آج کے بعد کسی سے اجازت نہیں لینی۔” یہ جملہ ماہرہ کی فتح نہ تھا، مگر خالہ کے اختیار کی کمر ٹوٹنے کی آواز ضرور تھی۔
خالہ شگفتہ نے فوراً بچاؤ ڈھونڈا۔ “نکاح ہوا نہیں، صرف کہہ دینے سے—”
ماہرہ نے اسی لمحے اُن کی طرف مڑ کر آخری دروازہ بند کیا۔ “تو پھر ابھی سب کے سامنے کہہ دیجیے کہ آپ نے میرے ہاتھ سے گھر کی خریداری کیوں کروائی، میرے نام سے داخلی فہرست کیوں چلائی، اور ارسلان کو میرے ساتھ منگنی کی انگوٹھی دیکھنے کورنگی سے طارق روڈ تک کیوں بھیجا؟” نادیہ کے منہ سے بے اختیار “بالکل” نکلا، مگر وہ فوراً خاموش ہو گئی۔ کافی تھا۔ خالہ کے چہرے پر وہی حالت آ گئی جو کسی کے ہاتھ سے دوسروں کے سامنے چابیوں کا گچھا گر جائے— آواز چھوٹی، نقصان بڑا۔
منتظم نے اب ہدایت خالہ سے نہیں لی۔ “رسی کھولوں؟” اس نے ارسلان سے پوچھا، مگر دیکھا ماہرہ کو۔ یہی دوسری ہار تھی۔ خالہ نے کہا، “کوئی رسی نہیں کھلے گی، اوپر پہلے دلہے والوں—”
“میں دلہے والوں میں ہوں،” ماہرہ نے اس بار ایک ایک لفظ الگ رکھا۔ “اور آج کے بعد مجھے سیڑھی کے نیچے کام پر کھڑا کر کے اوپر والوں میں شامل نہ کرنے کی رسم ختم۔” اس نے اپنا پرس کندھے پر ٹھیک کیا، آدھی تہہ رسید اس کے اندر کاغذ کی خشک سرسراہٹ کے ساتھ ہلی، اور وہ رسی کے سامنے جا کر رکی نہیں؛ اپنی جگہ مانگی بھی نہیں— لی۔ منتظم نے کھمبا اٹھایا، مگر خالہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
یہ آخری جھپٹ تھی، اور سب کے سامنے ہوئی۔ منتظم ایک لمحہ خالہ کی گرفت میں پھنسا، پھر اس نے نظر نیچے کر لی۔ “بی بی، صبح سے حکم ان ہی کے حساب پر چل رہا ہے۔ اب میں کس بات پر روکوں؟” اس کے لفظ مؤدب تھے، مگر ان میں انکار کی سیدھی ہڈی تھی۔ ماموں جان ایک طرف ہو گئے۔ اوپر اترتی خواتین نے خود بخود رُخ بدل لیا۔ خالہ شگفتہ سیڑھی کے موڑ پر اکیلی رہ گئیں، ہاتھ اب بھی ہوا میں، مگر حکم کہیں نہیں جا رہا تھا۔
ماہرہ نے خالہ کو نہیں دیکھا۔ وہ ارسلان کی طرف بھی نہیں مڑی۔ اس نے سامنے محراب کے نیچے کھلتے داخلی حصے کو دیکھا جہاں سے روشنی اوپر ہال میں جا رہی تھی، اور اتنی بلند آواز میں کہا کہ بزرگ، کزن، منتظم سب سن لیں: “میرا نام ماہرہ ہے۔ آج میں اس گھر میں مہمانوں کے رجسٹر کے پیچھے نہیں، اپنے حق کے راستے سے داخل ہوں گی۔ جسے اعتراض ہے، وہ میرا نام لے کر روکے۔ اشاروں سے نہیں۔”
کوئی نام لے کر نہ روک سکا۔
منتظم نے رسی والے کھمبے کو ماہرہ کی طرف زاویہ دے کر کھینچا۔ محراب کے نیچے داخلی راستہ اس کی سمت پہلے ہی مڑ چکا تھا۔ ماہرہ نے ایک قدم بڑھایا، اور رسی ہلتی ہوئی ایک طرف swing کر گئی۔