ur-PK shelf
Payback
01آخر میں اندر جانے کی منت بھی انہیں ہی کرنی پڑی“نام کس کا ڈالوں؟” کاؤنٹر والے لڑکے نے رجسٹر پر انگلی رکھی ہی تھی کہ حارث نے ماہرہ کے ہاتھ سے فائل کھینچ کر شیشے کے نیچے سرکا دی۔ “میرا۔ اور ایک اٹینڈنٹ پاس میری امی کے لیے۔” پھر ا...02اپنا دانہ خود نگل گیانعمان بھٹی نے چیک لسٹ ماہر کے سینے پر ایسے ماری جیسے جرمانے کی پرچی ہو۔ “یہ اسپیشل ہے۔ آج ایک بھی خانہ خالی ہوا تو سیدھا تمہارا نام جائے گا۔” لوڈنگ بے کے کنارے کھڑے دو لڑکوں نے فور...03اپنا ہی دانہ نگل گیاسرفراز بھٹی نے لوڈنگ بے کے کنارے دھاری دار کلپ بورڈ مریم کے سینے سے ٹکرا کر روکا اور اونچی آواز میں کہا، “چیک لسٹ یہی پر پڑھے گی، ابھی۔ گاڑی دروازے پر کھڑی ہے، اور اگر ایک خانہ بھی...04اسی ڈیمو نے اس کی عزت ڈبو دیمہرین نے پروب کے سرے پر جیل لگایا، زاویہ ٹھیک کیا اور مشین کی چمکتی اسکرین پر گین نیچے کھینچا ہی تھا کہ ڈاکٹر فراز نے اس کے ہاتھ سے مارکر لے کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اعلان کیا، “...05اصل ہنر سامنے آیا تو وہ ختمحارث نے مہرین کے ہاتھ سے ہیڈفون جھٹک کر کنسول پر رکھ دیے اور کہا، “تم بس سائیڈ پہ رہو، یہ بڑا فنکشن ہے، کھیل نہیں۔” اس کے ساتھ ہی اس نے سیاہ ربڑ والی رسائی کارڈ کی ڈوری اپنی جیب می...06پاس نہیں، چابی ہاتھ بدل گئیدانش نے مریم کے ہاتھ سے رہائی کی دو پیتل کی ٹکیاں چھین کر اپنی میز کے دائیں خانے میں پھینکیں اور چیخ کر کہا، “لین نمبر دو آج تم نہیں کھولو گی۔ حمزہ، گاڑی ادھر لگاؤ۔” ڈسپیچ یارڈ کی...07پورا منظر اس پر پلٹ گیاسلمان بھٹی نے گیٹ کے پاس لٹکے رجسٹر پر ہتھیلی ماری اور اونچی آواز میں کہا، “یہی ہے وہ آدمی۔ پچھلے سال والا شارٹ لوڈ بھی اسی کے نام پر کھلا تھا، اور آج پھر یہی لائن پکڑے کھڑا ہے۔”...08پورا منظر اسی کے خلاف پلٹ گیاسحر نے نکلتے ہوئے ٹرالی کے آگے ہاتھ رکھ دیا تو لوہے کا پہیہ چیخ کر رک گیا، اور کامران صاحب نے رجسٹر کی کھلی جلد پر انگلی مار کر کہا، “یہ کمی تمھارے شفٹ کوڈ میں نکلی ہے، سحر۔ دروازہ...09جنہوں نے مجھے روکا تھا، آج خود کٹ گئے“مہرین، یہ پرچی ادھر دو۔ تم آج لائن نہیں چلا رہیں،” دانش نے اس کے ہاتھ سے نیلی رُوٹ سلِپ جھٹکے سے کھینچی اور اگلے ہی لمحے دو موٹر سائیکل سواروں کو ہاتھ کے اشارے سے آگے گزار دیا۔ ڈس...10جو پھندا اس نے بچھایا تھا“رک جاؤ، تم اندر نہیں جاؤ گی۔”11سب نے غلط اندازہ لگایا تھا“یہاں نہیں، نیچے والی قطار میں بیٹھو۔” فراز بھابھی نے ماہرہ کی کلائی کے قریب لٹکے کارڈ کو دو انگلیوں سے پرے دھکیلا اور سیڑھی کی لینڈنگ پر اپنا بازو پھیلا کر راستہ بند کر دیا۔ اوپر...12لائیو ڈیمو میں بڑا ڈاکٹر ٹوٹ گیاڈاکٹر زارون نے ماہرہ کے ہاتھ سے پروب جھٹکے سے کھینچ کر ٹرے پر پٹخا اور رجسٹر میز کے کنارے سے لٹکتی اس کی عارضی رسائی کارڈ کو دو انگلیوں سے اٹھا کر نرس صبا کی طرف اچھال دیا۔ “اسے فا...13وہی منظر ان پر پلٹ آیاندیم نے دستخط شدہ حکم نامہ رجسٹر پر پٹخا اور مہرین کے بازو کے سامنے اپنی ہتھیلی دیوار کی طرح کھڑی کر دی۔ “تم ادھر سے نہیں جاؤ گی۔ سروس لین دو نمبر۔” بیک گیٹ کی چھت کے نیچے بھاپ، پس...