ur-PK shelf
Romance
01اس انجام نے دو لوگوں کو تھام لیاحنا نے کپڑا بھگو کر صائمہ آنٹی کے ماتھے پر رکھا ہی تھا کہ دروازے پر کھڑی فرح خالہ نے تیز آواز میں کہا، “بس، بس، تم پیچھے ہٹو۔ نرس آ رہی ہے۔”
صائمہ آنٹی کے لبوں کے کنارے سے الٹی کی...02اس انجام نے دو لوگوں کو روکے رکھاحریم نے رجسٹریشن میز پر رکھے فیس واؤچرز کا گچھا ایک جھٹکے سے سنبھالا اور ساتھ ہی اس لڑکے کی ماں کو گرنے سے بچانے کے لیے پلاسٹک کرسی کا کونہ پاؤں سے آگے کھسکا دیا۔ ابھی عورت نے بیٹھ...03اصل شفٹ پھر میرے نام ہوئیمہرین نے شٹر اٹھا کر کلینک کا شیشے والا دروازہ کھولا، رات کی تاخیر سے لوٹائی گئی چابی ابھی اس کی ہتھیلی میں ٹھنڈی تھی، اور کاؤنٹر کے نیچے رکھا اس کا کھانے کا ڈبہ صبح تک سرد ہو چکا...04بند دروازہ اسی پر کھلامومنہ نے کاغذ کے کپ کو گرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا، چائے اس کی آستین پر چھلکی اور حرا نے بغیر پلٹے بس اتنا کہا، “پلیز یہ صاف کر دو، سعد کی امی آ رہی ہیں۔”05بند دروازہ میرے لیے کھل گیامہرین نے گیلی چادر دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر خالا نسیم کے کندھوں پر ڈالی، پھر فرش پر پھیلا الٹی کا پانی اپنے دوپٹے کے کونے سے روکا کہ وہ بجلی کے تار تک نہ پہنچے۔ کچن کے دروازے میں ک...06بند کمرہ میرے لیے کھل گیاحنا نے گرتی ہوئی چائے کی دیگچی دونوں ہاتھوں سے تھام لی، گرم دھار اس کی کلائی پر لپکی، اور اس نے ایک جھٹکے سے رجسٹریشن ڈیسک کے نیچے رکھا سفید دوپٹہ کھینچ کر میز پر پھیلادیا تاکہ مہن...07جو جگہ مجھ سے چھینی گئی تھی، وہ میری رہیصبا نے رسیپشن کے پیچھے جھک کر گرے ہوئے رجسٹر کو ایک ہاتھ سے سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑ کر بوڑھی خالہ کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ حارث نے دروازے سے اندر آتے ہوئے کہا، “ی...08خالی جگہ میری تھیحنا نے دونوں ہاتھوں سے گرم دیگچی سنبھالی ہی تھی کہ کامران بھابھی نے دروازے سے اندر آتے ہوئے اونچی آواز میں کہا، “ارے، وہ برتن سیدھا کچن میں رکھو، میز پر جگہ مت گھیرنا۔” حنا نے ایک...09کام مجھ پر ڈالا، پھر مجھے پکاراسائرہ نے رجسٹر کی پٹی اپنی کہنی سے سیدھی کی ہی تھی کہ حارث نے اس کے ہاتھ سے مریضوں کی فائلوں کا گچھا لے کر زور سے کاؤنٹر پر رکھا اور اونچی آواز میں بولا، “ندا، تم فرنٹ ڈیسک سنبھالو...10مجھ پر ڈال کر پھر مجھے ہی پکارازویہ نے کاؤنٹر پر کھلی رپورٹ فائل سے غلط رسید کھینچ کر واپس درست خانے میں رکھی ہی تھی کہ حارث نے اس کی کلائی کے پاس ہاتھ لا کر فائل بند کر دی۔ “تم ہر چیز میں ہاتھ ڈال دیتی ہو۔” اس...11مجھے ہٹا کر پھر مجھے ہی پکاراحنا نے اپنی انگلیوں میں دبی ہوئی شفٹ شیٹ سیدھی کی ہی تھی کہ مومنہ بھابھی نے سب کے سامنے وہ کاغذ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا اور بولیں، “تم بس کچن دیکھو۔ دروازے پر عائشہ رہے گی۔”
پچھلے...12میرا نام اب بھی وہیں تھادوپہر کے وقفے میں مائرہ باجی نے رجسٹر کھینچ کر حنا کے ہاتھ سے لے لیا اور سب کے سامنے اس کے نام پر ایک موٹی سی لکیر پھیر دی۔ “تم بس باکس رکھ دو، میز کے پیچھے سدرہ بیٹھے گی۔” حنا نے...13میرا نام اب بھی وہیں تھا #2اس نے ابھی چائے کی ٹرے سنبھال کر دروازے کے پاس رکھی ہی تھی کہ حارث نے اس کے ہاتھ سے کپ اٹھا کر دوسرے لڑکے کو تھما دیا۔ “مہرین، تم بس اندر مت آیا کرو جب مہمان بیٹھے ہوں۔ سمجھا کرو۔”...14میری جگہ ان کا شارٹ کٹ مر گیا“مہرین، دو نمبر والی پٹی جلدی دو، اور امی کے لیے شوگر والی دوا الگ باندھو۔”15ہم نے ایک ہی بوجھ اٹھایا“جلدی، یہ کپڑا دو—اور میز کے نیچے ہاتھ مت ڈالو، سائرہ، وہاں مہمانوں کے جوتے رکھے ہیں!”16ہم نے ایک ہی بوجھ اٹھایا #2ماہر نے ڈرپ کی بوتل کو ہاتھ سے اوپر تھاما اور دوسری ہتھیلی سے حنا کی ماں کے بازو میں لگی سوئی کے پاس بہتا خون دبا دیا۔ نرس ابھی پردہ ہٹا کر اندر پہنچی بھی نہ تھی کہ دروازے پر کھڑی...17واپسی کا محفوظ راستہ پھر کھل گیاسلمان نے ٹرے سیدھی پکڑ کر حرا کے اوپر جھکایا ہوا چائے کا کپ گرنے سے پہلے تھام لیا، اور اگلے ہی لمحے کینٹین کے شیشے والے کاؤنٹر پر پھیلتی بھوری لکیر کو اپنے آستین سے روک دیا۔ “ہاتھ...18وہ کمرہ میرا انتظار کرتا رہا"حِنا، ٹرے سیدھی پکڑو— گر گئی تو تمہاری ذمہ داری ہوگی،" نادیہ باجی نے اونچی آواز میں کہا، اور اسی لمحے ان کے ہاتھ سے سوپ کا کاغذی کپ پھسل کر کلینک کی سفید ٹائلوں پر پھیل گیا۔ مریضو...19یہ نقصان ہمیں جدا نہ کر سکاسائرہ نے گرم دیگچی کے نیچے سے گیلا کپڑا کھینچ کر چولہے کی لپکتی آنچ پر دے مارا تو تیل کی چھینٹ ایک دم سسکاری لے کر بجھ گئی، اور اُس کے ہاتھ میں پھنسا آدھا تہہ کیا ہوا رسید کا پرزہ...